وصول شدہ رقم وزارت خزانہ کو دینے کے پابند نہیں ہیں، چیئرمین نیب

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب کی ریکوریز کی رقم وزارت خزانہ میں جمع نہ کروانے کی وجہ بتا دی۔ تفصیلات کے مطابق چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ وصول شدہ رقم وزارت خزانہ کو دینے کے پابند نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 541ارب کی ریکوریز ہوئیں، جن کی رقم لوٹی گئی تھیں انہیں واپس کیں، ان پر ہاتھ ڈالا جن پر کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔نیب کو اپنے آغاز سے اب تک510729 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 498256 شکایات کو نمٹا دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) نے 4 سال میں سب سے

زیادہ ریکوریوں کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریکوریز کے حوالے سے کچھ لوگوں نے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کی کوشش کی ، رواں سال 200 کارروائیاں کی گئیں ، نقدی میں 56 ارب روپے سوسائٹیز سے آئے ہیں اور کچھ مزید ہوں گی ، سکھر میں گندم کے ذخائر کھانے والے چوہوں کو بھی نیب نے پکڑا۔جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کو دیانتداری کی مثال بن کر کام کرنا چاہیے ، نیب نے 36 ہزار افراد کو ان کی رقوم واپس کی ہیں ، نیب نہ ہوتا تو یہ ریکوریاں ان متاثرین میں تقسیم نہ ہوتیں اور نیب کے پاس تمام ریکوریز کا ریکارڈ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو سادہ ہونا چاہئیے لیکن دھوکے سے بچنا بھی ضروری ہے کیونکہ اراضی خریدتے وقت تصویر وہ لگائی جاتی ہے جو حقیقت کے برعکس ہوتی ہے ، نیب پر تنقید ضرور کریں لیکن ثبوت کے ساتھ کریں۔انہوں نے کہا کہ سال میں سب سے زیادہ ریکوریاں کی گئیں جن میں سے 541 ارب کی ریکوریاں براہ راست اور بلاواسطہ ہیں ، ایک ہاؤسنگ سوسائٹی نے 14 ارب روپے ادا کیے ہیں ، سکھر میں گندم کے ذخائر ادھرادھر ہو گئے تھے اور پوچھنے پر کہا گیا کہ چوہوں نے کھا لیے ہیں پھر نیب نے ان چوہوں کو پکڑ لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں