عام آدمی پر صرف 2 ارب روپے کے ٹیکسوں کا بوجھ پڑے گا، شوکت ترین

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عام آدمی پر صرف 2 ارب روپے کے ٹیکسوں کا بوجھ پڑے گا: وزیرخزانہ۔ نمک، مرچ سمیت چند چیزوں پر ٹیکس سے عام آدمی متاثر ہوگا، بل میں 343 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ پر نظر ثانی کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا ہے کہ منی بجٹ سے عام آدمی پر 2 ارب کے ٹیکس کا بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ نمک، مرچ سمیت چند چیزوں پر ٹیکس سے عام آدمی متاثر ہوگا جبکہ بل میں 343 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ پر نظر ثانی کی گئی ہے۔اپنے خطاب میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ کمپیوٹرز اور سلائی مشینوں پر بھی ٹیکس عائد ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہزارسی سی سے زائد گاڑی پرڈیوٹی بڑھے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ بتایا جائے 2 ارب روپے سے کون سا بڑا مہنگائی کا طوفان آجائے گا؟ اپنی گفتگو میں انہوں نے مالیاتی ضمنی بل سے عوام پر بوجھ کی باتوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔مزید تفصیلات کے مطابق میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ فنانس ترمیمی بل میں زیروریٹڈ انڈسٹری کی 6 آئٹمز پر جی ایس ٹی چھوٹ واپس لینے کی تجویز دی گئی ہے، زیرو ریٹڈ آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے سے ساڑھے 9 ارب روپے کا بوجھ پڑےگا۔ امپورٹڈ دودھ، سائیکلوں پر دی گئی ٹیکس چھوٹ واپس لینے اور 59 امپورٹڈ فوڈ آئٹمز پر دی گئی جی ایس ٹی چھوٹ بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔امپورٹڈ فوڈ آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے سے 215 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، بیکری آئٹمز، برانڈڈ فوڈ آئٹمز پر بھی جی ایس ٹی چھوٹ واپس لینے کے ساتھ پاورسیکٹر کیلئے امپورٹڈ مشینری پربھی دی گئی چھوٹ واپس لینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح امپورٹڈ موبائل فونز پر17 فیصداضافی ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔ گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس ایڈوانس ٹیکس میں100 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔غیرملکی ٹی وی سیریلز اور ڈرامہ پر ایڈوانس ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ 1000سی سی سے زائد گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اجلاس سے قبل وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے میڈیا سے گفتگو اور پارلیمانی اجلاس میں بریفنگ دی، میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ منی بجٹ میں عوام پر کوئی بوجھ

نہیں ڈالا جا رہا، عوام پر بہت تھوڑا بوجھ پڑے گا۔اے آروائی کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ نے منی بجٹ پر اعتراضات اور شوکت ترین کے سامنے سوالات اٹھائے۔ شوکت ترین نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کی وجہ سے ڈالر ریٹ میں اضافہ ہوا ہے، ڈالر کو 165اور 170 کے درمیان ہونا چاہیے مصنوعی اضافہ جلد کنٹرول کرلیں گے۔ وزیرخزانہ نے ٹیکسز کے مقابلے میں سبسڈی اور ٹیکس ریفنڈ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی پر 2 ارب کا بوجھ پڑے گا جس کیلئے سبسڈی پر غور کررہے ہیں۔17 فیصد سیلز ٹیکس

کے بیشتر حصے میں 12 فیصد ریفنڈ کرنے کی تجویز ہے۔ دوسرے ٹیکسوں میں ایڈجسٹ کرنے کی بھی تجویز ہے، 71 ارب کے ایسے ٹیکسز ہیں جو صرف درآمدی اشیاء پر ہوں گے ریفنڈ نہیں ہوں گے۔ شوکت ترین نے سوالات کے جوابات میں بتایا کہ ہم نے انکم ٹیکس پر آئی ایم ایف کی شرائط نہیں مانیں، یہ بل نہ لاتے تو آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے نہیں ہونا تھے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ممبران کا حق ہے کہ پیش کیے جانے والے بل سے متعلق آگاہ کیا جائے، فنانس بل سے متعلق وزیرخزانہ نے ممبران کے سوالات کے جوابات دیئے، اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترامیم سے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات کو دور کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں