زرعی ادویات، کھاد اور ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس نہیں لگا رہے، شوکت ترین

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) زرعی ادویات، کھاد اور ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس نہیں لگا رہے۔ حکومت نے کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جس سے غریب آدمی پر بوجھ پڑے، بل میں 343 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ پر نظر ثانی کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا ہے کہ حکومت منی بجٹ میں زرعی ادویات، کھاد اور ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس نہیں لگا رہی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کوئی ایسا اقدام نہیں کیا کہ جس سے غریب آدمی پر بوجھ پڑے۔ میڈیا سے گفتگو میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے متعدد ملک متاثر ہوئے ہیں۔

امریکہ، برطانیہ اور یورپی ممالک بھی مہنگائی کی عالمی لہر سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ اڑھائی سال سے اسٹیٹ بینک سے کوئی پیسہ نہیں لے رہے، ابھی بھی 6 ہزار ارب روپے اسٹیٹ بینک کے دینے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بل میں 343 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ پر بھی نظر ثانی کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ منی بجٹ سے عام آدمی پر صرف 2 ارب کے ٹیکس کا بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ نمک، مرچ سمیت چند چیزوں پر ٹیکس سے عام آدمی متاثر ہوگا جبکہ بل میں 343 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ پر نظر ثانی کی گئی ہے۔ اپنے خطاب میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ کمپیوٹرز اور سلائی مشینوں پر بھی ٹیکس عائد ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہزارسی سی سے زائد گاڑی پرڈیوٹی بڑھے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ بتایا جائے 2 ارب روپے سے کون سا بڑا مہنگائی کا طوفان آجائے گا؟ اپنی گفتگو میں انہوں نے مالیاتی ضمنی بل سے عوام پر بوجھ کی باتوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں کو خود مختاری دینا پی ٹی آئی کے منشور میں شامل ہے۔ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری سے متعلق ترمیمی بل کی منظوری کے بعد پارلیمانی کمیٹیاں اسٹیٹ بینک سے جواب طلبی کرسکیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں