امیر لوگوں پر ٹیکس لگایا گیا ہے، عام آدمی کے استعمال کی اشیاء پر ٹیکس ریفنڈ دیا گیا ہے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امیر لوگوں پر ٹیکس لگایا گیا ہے، عام آدمی کے استعمال کی اشیاء پر ٹیکس ریفنڈ دیا گیا ہے۔ شہباز شریف کا استفسار ہے کہ ٹیکس واپس کرنا ہے تو لگایا کیوں؟ اس لیے کہ بلیک اکانومی کی بجائے دستاویزی معیشت کو فروغ مل سکے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوھری نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے امیر لوگوں پر ٹیکس لگایا گیا ہے جبکہ عام آدمی کے استعمال کی اشیاء پر ٹیکس ریفنڈ دیا گیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر جاری پیغام میں وفاقی وزیر نے لکھا کہ شہباز شریف کا استفسار ہے کہ ٹیکس واپس کرنا ہے تو لگایا کیوں؟

اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ اس لیے کہ بلیک اکانومی کی بجائے دستاویزی معیشت کو فروغ مل سکے۔اپنے ٹوئیٹ میں ان کا کہنا تھا کہ 350 ارب روپے کے ٹیکس میں اصل ٹیکس صرف 71 ارب روپے کا ہے جو کہ امپورٹڈ اشیاء پر ہے، اور اس کا بوجھ امیر پر پڑے گا نہ کہ غریب آدمی پر۔دوسری جانب منی بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ عام آدمی پر صرف 2 ارب روپے کے ٹیکسوں کا بوجھ پڑے گا، انہوں نے کہا کہ بتایا جائے 2 ارب روپے سے کون سا بڑا مہنگائی کا طوفان آجائے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ حکومت منی بجٹ میں زرعی ادویات، کھاد اور ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس نہیں لگا رہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کوئی ایسا اقدام نہیں کیا کہ جس سے غریب آدمی پر بوجھ پڑے۔عالمی منڈی میں درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے متعدد ملک متاثر ہوئے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور یورپی ممالک بھی مہنگائی کی عالمی لہر سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ اڑھائی سال سے اسٹیٹ بینک سے کوئی پیسہ نہیں لے رہے، ابھی بھی 6 ہزار ارب روپے اسٹیٹ بینک کے دینے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بل میں 343 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ پر بھی نظر ثانی کی گئی ہے۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ منی بجٹ سے عام آدمی پر صرف 2 ارب کے ٹیکس کا بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ نمک، مرچ سمیت چند چیزوں پر ٹیکس سے عام آدمی متاثر ہوگا جبکہ بل میں 343 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ پر نظر ثانی کی گئی ہے۔ اپنے خطاب میں وزیر خزانہ

نے بتایا کہ کمپیوٹرز اور سلائی مشینوں پر بھی ٹیکس عائد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہزارسی سی سے زائد گاڑی پرڈیوٹی بڑھے گی۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے مالیاتی ضمنی بل سے عوام پر بوجھ کی باتوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں کو خود مختاری دینا پی ٹی آئی کے منشور میں شامل ہے۔ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری سے متعلق ترمیمی بل کی منظوری کے بعد پارلیمانی کمیٹیاں اسٹیٹ بینک سے جواب طلبی کرسکیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں