موٹروے کا دلخراش واقعہ، بات عمران خان کے استعفیٰ تک جاپہنچی، بڑی خبر آگئی

کرمانوالہ(نیوز ڈیسک) پاکستان اور جمہوریت لازم و ملزوم ہے اس کا راستہ روکنے والے مٹ جائینگے ،پاکستان صرف جمہوریت کے ساتھ ہی رہ سکتا ہے جمہوریت اور جمہوری قوتوں کی بالا دستی ہو گی تو ملک ترقی کرے گا۔جمہوریت کی کرن دبانے والے خود دب کر مٹ جائیں گے ریاست مدینہ کا تصور دینے والے حکمرانوں کے دور میں ایک خاتون کو اسکے بچوں کے سامنے جس درندگی کا نشانہ بنایا گیا اس پر عمران خان کو مستعفی ہو جانا چاہیئے ۔ان خیالات کا اظہارسینئر سیاستدان و پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنمامخدوم جاوید ہاشمی نے میڈیا سے ایک ملاقات میں کیا۔انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں ایسا

تو تصور بھی نہیں کیاجا سکتا اگر پاکستان کو ریاست مدینہ ہی بنانا ہے تو پھر ریاست مدینہ کے قوانین نافذ کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ قوم ایسے درندوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جو عورتوں کی عصمت دری کرتے ہیں ۔حکومت کو چاہیئے کہ ایسے درندوں کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ کبھی کسی کو ایسی جرات کرنے کا حوصلہ نہ ملے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن میں ن اور ش کی تقسیم کے بارے میں باتیں وہ کر رہے ہیں جو کل تک مشرف کے ساتھی تھے۔مسلم لیگ ن اس ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے اور حقیقت ہے کہ آج بھی اس کا ووٹ بنک سب سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نواز شریف ہی ہیں جنہوں نے تین بار اقتدار اعلیٰ دیکھنے کے بعد جیلوں کو چوم لیا ایسی قربانیاں دینے والی پارٹیاں اور قیادت کیسے تقسیم ہو سکتی ہے پاکستان ن کی تقسیم کے خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں بستے ہیں اور ان کے خواب بھی شیخ چلی جیسے ہیں۔انہوںنے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف میں کوئی اختلاف نہیںاور اگر کوئی چھوٹی موٹی بات ہے تو اس کی بنیاد پرپارٹی تقسیم ہو جائے اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کلمے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھااور ہمیں اس کلمے کی روح کی پاسداری کرنا ہوگی۔دوسری جانب پنجاب پولیس نے موٹروے زیادتی کیس کے ایک اور ملزم کو گرفتار کرلیا جس نے پولیس کےسامنے اعتراف جرم کرلیا۔سی آئی اے پولیس نے موٹروے زیادتی کیس میں ایک اور ملزم شفقت کو گرفتار کرلیا جسے گزشتہ روز خود سے گرفتاری دینے والے ملزم وقارالحسن کی

نشاندہی پر گرفتار کیا گیا ہے۔شفقت کو دیپالپور سے حراست میں لیا گیا اور اسے لاہور منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم شفقت سابقہ ریکارڈ یافتہ ہے اور اس نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کر لیا ہے۔شفقت کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے گا جس کی رپورٹ کی روشنی میں حتمی ثبوت ہاتھ آئے گا۔ پولیس کے مطابق قوی امکان ہے کہ مفرور ملزم عابد علی کا شریک ملزم شفقت ہی تھا اور اب پورا گینگ ٹریس کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔تحقیقاتی اداروں نے مرکزی ملزم عابد کے ایک اور دوست کو بھی حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔ زیرحراست شخص شیخوپورہ کا رہائشی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.