چیف جسٹس صاحب!اگر مسجد سلامت نہ رہی تو آپ کے عہدے بھی سلامت نہیں رہیں گے، راشد محمود سومرو

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (ف) سندھ کے رہنما راشد محمود سومرو نے کہا ہے کہ ”مسٹر چیف جسٹس مساجد یتیم نہیں ہوتیں، مسٹر چیف منسٹر مساجد یتیم نہیں ہوتیں، اگر آپ میں ہمت ہے تو دکھائیں اور مسجد کو بلڈوز کرنے کی کوشش کریں”۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں راشد سومرو نے مزید کہا کہ جب تک وہ زندہ ہیں کبھی کراچی کی کسی مسجد کی ایک اینٹ بھی نہیں گرنے دیں گے۔چیف جسٹس صاحب!اگر مسجد سلامت نہ رہی تو آپ کے عہدے بھی سلامت نہیں رہیں گے ،جے یو آئی رہنما نے خبردار کیا کہ ”ہم آپ کو راستے میں روکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مساجد گرائی گئیں تو آپ کے دفاتر کو بھی گرا دیا جائے گا، دوسری جانب چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ غصب کی گئی زمین پر مسجد بنانا صحیح نہیں ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں اور اس کے بعد ابتدائی ادوار میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسجد کی تعمیر کیلئے زمین کے انتخاب میں انتہائی احتیاط برتی جاتی تھی، انتہائی کوشش کی جاتی تھی کہ زمین ہر لحاظ سے محفوظ اور کسی قسم کی غصب یعنی ناجائزیا زبردستی قبضہ کی گئی زمین پر مسجد نہ بنائی جائے۔ قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ مسجد بن جانے کے بعد کیا کیا جائے اس حوالے سے متعدد آرا ہیں، اگر کسی راستے کی وسعت کی بات ہو تو اس میں بھی فقہا کی مختلف آرا ہیں، ہمیں پشاور میں ایک ایسا مسئلہ آگیا تھا، طورخم رو ڈ کی توسیع میں کچھ مساجد آگئی تھیں جو جائز مساجد تھیں لیکن راستے کی وسعت کیلئے علما سے بات ہوئی تو امام احمد بن حنبل کی رائے سامنے آئی کہ اس صورت میں جب راستے کی وسعت مطلوب ہو تو مسجد کا انہدام تو نہ کریں بلکہ کسی دوسری جگہ اس کے بدلے میں مسجد تعمیر کرلی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں