نئے نیب قانون سے 100 بڑے کیسز متاثر ہونے کا امکان، 2700 ملزموں کو ریلیف مل سکتا ہے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)نئے احتساب قانون کے نافذ ہونے سے تقریباً ایک سو ہائی پروفائل کیس متاثر ہوں گے جن میں سابق صدر، موجودہ اور سابق وزرائے اعظم، ارکان پارلیمنٹ اور سینئر بیوروکریٹس کے کیسز شامل ہیں۔ اس حوالے سے قومی اخبار روزنامہ جنگ میں بتایا گیا کہ قومی احتساب بیورو (نو ترمیم شدہ) کے آرڈیننس 2021ء کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوگا کہ 2700 کے قریب ملزمان (جن میں سے 60؍ فیصد کے خلاف 8272 ریفرنس، انوسٹی گیشنز، انکوائریاں اور شکایات درج ہیں) کو نئے نافذ ہونے والے احتساب قانون کے نتیجے میں ریلیف ملے گا یا پھر ان کے معاملات متعلقہ حکام،

محکموں یا پھر متعلقہ قانون کے تحت آنے والی عدالتوں کو منتقل ہو جائیں گے۔نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کو موصول سرکاری دستاویزات کا جائزہ لیا گیا اور نیب حکام اور آزاد وکلاء سے رابطہ کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کہ ان کیسز، انوسٹی گیشنز اور انکوائریوں کا انجام کیا ہوگا فی الوقت 332 ہائی پروفائل یا میگا کیسز نیب کے ریجنل دفاتر میں پراسیس میں ہیں۔یہ کیسز سابق صدر، 6 سابق وزرائے اعظم، 8 سابقہ اور موجودہ وزرائے اعلیٰ، 126 سابق اور موجودہ وزراء، سینیٹرز، ارکان پارلیمنٹ، ارکان صوبائی اسمبلی، 159 سابقہ اور موجودہ بیوروکریٹس کیخلاف اور جعلی اکائونٹس کے کیسز ہیں۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ 1273 جاری ریفرنسز میں تقریباً 1300 ارب روپے کی خورد برد کرنے کا الزام ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سرکاری دستاویز سے یہ بات سامنے آئی کہ نئے نیب آرڈیننس کے نفاذ کے حوالے سے صورتحال کو دیکھتے ہوئے نیب انتظامیہ نے اپنے ریجنل دفاتر سے کہا کہ فی الحال کارروائی کو روک دیا جائے تاوقتیکہ وزارت قانون و انصاف (ایم ایل جے) نئے آرڈیننس کے حوالے سے اپنی تشریح پیش کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں