نوازشریف کو لندن سے ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے،سینئرصحافی کادعویٰ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینئرصحافی ارشاد عارف کا کہنا ہے کہ اس وقت مختلف قسم کی افواہیں، قیاس آرائیاں چل رہی ہیں، یہ ن لیگ کے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بنائی گئی ایک سکیم ہے کہ ایسا ماحول پیدا کیا جائے، اگر لندن میں نوازشریف کا سٹے قانونی بنیاد پر ختم ہو کیونکہ ان کا پاکستانی پاسپورٹ ختم ہو چکا ہے،ویزے کے معیاد بھی ختم ہو چکی ہے،اگر وہ پاکستان آنا چاہیں تو ایسا نہیں لگنا چاہئیے کہ انہیں ڈیپورٹ کیا گیا ہے یا کسی مجبوری کے تحت واپس آئے ہیں۔یہ تاثر پیدا ہونا چاہئیے کہ وہ کسی ڈیل کے نتیجے میں واپس آئے ہیں، یہ تاثر وزیراعظم تک بھی پہنچانا ہو گا،

ممکن ہے اندر خانے کچھ چل رہا ہو اس لیے وزیراعظم نے یہ بات کی ہے۔ایک شخص جس کی سزا سپریم کورٹ اور احتساب عدالت سے بھی ہوئی ہے، سپریم کورٹ سے جو سزا ہوئی اس کی اپیل مسترد ہو چکی ہے۔اس سزا کو تو کوئی عدالت ختم نہیں کر سکتی۔ظاہر ہے یہ تاثر ن لیگ کے لیے مفید ہے مگر تحریک انصاف کے کارکنوں کو حوصلہ دینے کے لیے کی ہے،آگے حقیقت کیا ہے یہ نوازشریف بتا سکتے ہیں یا پھر عمران خان بتا سکتے ہیں۔یہاں واضح رہے کہ گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان بھی اس معاملے میں بول اٹھے تھے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ترجمانوں کا اجلاس ہوا، جس میں ملک کی معاشی اور سیاسی صورتحال سمیت خیبرپختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات اور نوازشریف کی سزا ختم ہونے سے متعلق خبروں پر بھی بات چیت کی گئی، اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے نواز شریف کی سزا کے خاتمے سے متعلق کہا کہ نوازشریف کی سزا ختم ہونے سے متعلق قیاس آرائیاں ہورہی ہیں، یہ کیسے ممکن ہے سزا یافتہ شخص کی سزا ختم ہوجائے۔عمران خان نے کہا کہ پانامہ میں نواز شریف کا نام آیااور عدالت نے نوازشریف کو ڈس کوالیفائی کیا۔ نوازشریف نے عوام کا پیسا لوٹا اور بیرون ملک منتقل کیا۔ نواز شریف نے آج تک ایک منی ٹریل بھی پیش نہیں کی، پھر سزا ختم کرنا کیسے ممکن ہے۔ ایک مجرم کی سزا ختم کرکے نوازشریف کو کیسے چوتھی بار وزیراعظم بنایا جاسکتا ہے؟ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حیران کن بات ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن خیبرپختونخواہ الیکشن پر جشن منا رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں