مسافر فیری میں آگ بھڑکنے سے 32 افراد لقمہ اجل بن گئے، کشتی میں 500افراد سوار تھے

ڈھاکا (نیوز ڈیسک)بنگلہ دیش میں مسافر فیری میں آگ بھڑکنے سے 32 افراد ہلاک ہو گئے ۔تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش میں مسافر فیری میں آگ بھڑکنے سے 32 افراد ہلاک ہو گئے۔یہ افسوسناک واقعہ جمعے کی صبح بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ سے 250 کلومیٹر کی دوری پر واقع جھالو کاٹی ضلع کے جنوبی دیہی علاقے میں پیش آیا،کشتی ڈھاکا واپس جا رہی تھی۔جنوبی بنگلہ دیش میں مسافر فیری میں آگ بھڑکنے سے اب تک 32 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے،مقامی حکام کے مطابق اب تک 32 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جس میں سے کچھ افراد جھلسنے جب کہ کچھ پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوئے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسی کشتی میں تقریباَ 500 افراد سوار تھے۔تین منزلہ کشتی نے سفر کے دوران دریا کے بیچ میں آگ پکڑ لی تھی جس کے بعد متعدد افراد نے دریا میں چھلانگ لگا دی تھی۔پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ کشتی میں آگ انجن روم سے لگی،حادثے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 100 افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جن میں سے بیشتر افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔مقامی پولیس چیف معین الاسلام کا کہنا ہے کہ ہم نے جلنے کی وجہ سے زخمی ہونے والے 100 افراد کو باریسل کے اسپتالوں میں بھیجا ہے۔یہاں واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کشتیوں میں آتشزدگیوں کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔کشتیوں میں آگ لگنے کے علاوہ بھی بنگلہ دیش میں آگ لگنے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔جولائی میں ڈھاکہ کے مضافاتی علاقے روپ گنج میں قائم فیکٹری میں آگ لگنے سے 52 افراد جان گنوا بیٹھے تھے۔اسی طرح فروری 2019ء میں ڈھاکہ کے ان اپارٹمنٹس میں آتشزدگی سے 70 افراد ہلاک ہوئے تھے جسے کیمائی گودام کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں