بین الااقوامی اسلامی یونیورسٹی معاشرے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہے، ڈاکٹر ہتھل حمود

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بین الااقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر ہتھل حمود علطیبی کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دنیا کو وبائی مرض کا سامنا ہے اور بہت سے ممالک کو معاشی عدم استحکام کے چیلنج کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلوبل ویلج کے اس دور میں اپنی صلاحیتوں اور مہارت کو ظاہر کرنا آسان ہے اور نوجوانوں کے لیے یہ بہترین وقت ہے کہ وہ ملک کی ترقی اور استحکام میں انٹرنیٹ اور آن لائن موڈ کے ذریعے اپنا حصہ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کے پیشہ ور افراد کی ضروریات سے ہم آہنگ ہونے کی عالمی ضرورت ہے جو کاروباری صلاحیت کو فروغ دے سکتے ہیں

اور وہ موسمیاتی تبدیلی، معاشی بحران اور غربت جیسے اہم عالمی چیلنجوں سے بھی نمٹ سکتے ہیں۔ بین الااقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر جناب ڈاکٹر ہتھل حمود علطیبی نے اپنے خطاب میں کہا کہ انٹرپرینیورشپ کے فروغ کے نتیجے میں خوشحالی آسکتی ہے اور اس سلسلے میں فیکلٹی مینجمنٹ سائنسز کی جانب سے ایک سمٹ کا اقدام قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی معاشرے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے نمونے بھی مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نے چین، وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے ایک آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنے کورسز شروع کیے ہیں اور جلد ہی اس پورٹل کے ذریعے پوری دنیا میں ڈگری پروگرام کے پاس 50 ہزار سے زائد سابق طلباء ہیں جو یونیورسٹی کے سفیر ہیں اور یونیورسٹی اس اثاثے کو شامل کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ اپنی مہارت اور مہارت کے ذریعے یونیورسٹی کی ترقی میں مدد مل سکے۔ انہوں نے طلباء پر بھی زور دیا کہ وہ اختراعی منصوبوں میں شامل ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ یونیورسٹی کے نئے اسٹریٹجک پلان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے سال کے آغاز سے یونیورسٹی اپنے نئے تیار کردہ اسٹریٹجک پلان پر عمل درآمد شروع کردے گی اور امید ظاہر کی کہ یہ یونیورسٹی کی کامیابی کے نئے سفر کی جانب ایک اور قدم ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں