دنیا کا پہلا ایس ایم ایس بطور این ایف ٹی 150,000 ڈالر میں فروخت

پیرس(نیوز ڈیسک) دنیا بھر میں ڈیجیٹل نوادرات کی بطور این ایف ٹی فروخت جاری ہے اور اب دنیا کا پہلا ایس ایم ایس ڈیڑھ لاکھ ڈالر میں فروخت ہوا ہے جس کی پاکستانی روپوں میں قیمت دو کروڑ اڑسٹھ لاکھ روپے کے برابر ہے۔برطانوی انجینیئر نیل پیپ ورتھ نے 3 دسمبر 1992 کو اپنے کمپیوٹر سے یہ پیغام اس وقت ووڈا فون کمپنی کے سربراہ رچرڈ ہاروس کو بھیجا تھا۔ اس پیغام میں Merry Christmas لکھا تھا۔ اب اسے پیرس کے ایک مشہور نیلام گھر اگوت نے نیلام کیا ہے۔ کرسمس کی مبارک باد کا یہ پیغام رچرڈ نے اپنے آربیٹل 901 سیل فون پر وصول کیا تھا۔

تاہم اصل ایس ایم ایس تو فون میں ہی محفوظ ہوگا لیکن اس کی نقل، کمیونی کیشن پروٹوکول اور ایک ڈیجیٹل فریم بھی دیا جائے گا جس میں تھری ڈی اینی میشن کو متحرک دیکھا جاسکتا ہے۔ایک نامعلوم خریدار نے اس کی رقم ایتھریئم کرپٹو کرنسی میں ادا کی ہے کیونکہ این ایف ٹی کرپٹو کرنسی میں ہی خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔ ایس ایم ایس کی کہانی بہت دلچسپ ہے کیونکہ وہ ڈیجیٹل پیغام رسانی کے انقلابی پروگرام پر کام کررہے تھے جس کی بدولت فون سے دوسرے فون یا پھر کمپیوٹر سے سیل فون تک پیغام بھیجا جانا تھا۔ نینل پیپ ورتھ نے یہ پیغام ووڈا فون کو بھیجا تھا جو بعد ازاں انقلاب ثابت ہوا۔نیل کہتے ہیں کہ 1992 میں خود انہیں بھی اندازہ نہ تھا کہ ایس ایم ایس کہاں سے کہاں پہنچ جائے گا، ’’نہ مجھے ایموجی اور تھری ڈی اینی میشن کا کوئی خیال آیا تھا،‘‘ انہوں نے کہا۔بہت ابتدائی سیل فون میں کی بورڈ تھے ہی نہیں بس سینڈ اور اینڈ کے بٹن ہوتے تھے اور اسی وجہ سے ان سے ایس ایم ایس بھیجا محال تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نیل نے اپنے کمپیوٹر سے یہ پیغام بھیجا تھا۔ اس کے بعد نوکیا نے کی پیڈ والا پہلا فون نوکیا 210 پیش کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں