بلدیاتی الیکشن میں شکست، وزیراعظم عمران خان سخت فیصلے کریں گے

پشاور (نیوز ڈیسک)سینئرصحافی رانا عظیم کا کہنا ہے کہ کے پی کے کے الیکشن میں ہا رکے ذمہ دار جن 24 افراد کی لسٹ وزیراعظم کے پاس گئی تھی ان کے نام سامنے آ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے تین اداروں سے بھی رپورٹ حاصل لی، ان میں جو چیز مشترک ہے اس پر غور ہو گا۔رپورٹ میں کچھ سرکاری افسران کے نام بھی لیے گئے ہیں۔ان سرکاری افسران کو الیکشن کے بعد تبدیل کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔تحریک انصاف کے جن لوگوں کے نام آئے ان میں جو قصوروار ہوا اسے وزارت یا سیٹ سے فارغ کر دیا جائے گا،وزیراعلیٰ کے پی کے سے وزیراعظم نے سخت باز پرس کی۔

پیسے لے کر ٹکٹیں دینے کی اطلاع پر انکوائری کمیٹی بنا دی گئی۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ منی بجٹ پر حکومتی حلقے وزیراعظم کو ہر میٹنگ میں کہہ رہے ہیں کہ منی بجٹ لے کر آنا ہے تو پہلے ہم سے استعفے لیں۔ہم عوام میں جانے کے قابل نہیں۔قبل ازیں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان کی ہدایت پر بلدیاتی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی شکست کی وجوہات پر رپورٹ تیار کرلی گئی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی شکست کی بنیادی وجہ مہنگائی کے علاوہ بڑے اندرونی اختلافات تھے، بعض ارکان اسمبلی کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدواروں کو سپورٹ نہیں کیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو رپورٹ پیش کرنے سے قبل وزیراعلٰی خیبرپختونخواہ محمود خان کی قریبی صوبائی وزراء سے مشاورت جاری ہے۔ذرائع کے مطابق مخالف امیدواروں کو سپورٹ کرنے پر دو ارکان قومی اسمبلی اور چار ارکان صوبائی اسمبلی کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان کو طلب کرلیا ، وزیراعلیٰ بلدیاتی انتخابات کے نتائج پر وزیراعظم کو بریف کریں گے، ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا جائے گا، وزیراعظم اگلے مرحلے کی حکمت عملی کے لیے گائیڈ لائنز دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں