ملک میں ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس مہنگی کرنے کی تیاریاں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت ٹیلی کام سیکٹر پر ٹیکس نہ بڑھانے کے فیصلے سے بھی مُکر گئی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے منی بجٹ میں ٹیلی کام سروسز پر ٹیکس میں اضافہ کیے جانے کا امکان ہے جس کے بعد ملک میں ٹیلی کام اور انٹرنیٹ سروس مہنگی ہوجائے گی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیلی کام سروسز پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں 5 فیصد اضافے کا امکان ہے، حکومت نے ود ہولڈنگ ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ٹیلی کام سیکٹر کے ذرائع نے بتایا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس میں اضافے سے

پاکستان میں ٹیلی کام خدمات اور انٹرنیٹ بھی مہنگا ہوجائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 187 ملین ٹیلی کام سروس استعمال کرنے والے افراد میں سے 98 فیصد پری پیڈ صارفین ہیں، کم آمدن والے طبقے سے تعلق رکھنے والے صارفین ود ہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹ نہیں کروا سکیں گے۔یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 21-2020ء کے بجٹ میں ود ہولڈنگ ٹیکس 12 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کیا تھا اور اسے مزید کم کر کے 8 فیصد تک لانے کی یقین دہانی کروائی تھی۔ذرائع ٹیلی کام سیکٹر کے مطابق پاکستان ٹیلی کام سیکٹر پر ٹیکسوں کی بلند شرح کے حامل ممالک میں شامل ہے، جنوبی ایشیا میں ٹیکسز کی بلند شرح کے لحاظ سے پاکستان کا نمبر دوسرا ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ہوئے معاہدے کے تحت ”منی بجٹ” کو حتمی شکل دے دی ہے جس میں 6 کھرب روپے کی مالی ایڈجسٹمنٹس اور اخراجات کی کٹوتیاں شامل ہیں۔ منی بجٹ میں وفاقی حکومت نے درآمد شدہ موبائل فونز پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کر کے ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں