بلدیاتی انتخابات میں شکست، وزیراعظم نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کو طلب کرلیا

پشاور (نیوز ڈیسک) خیبرپختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات میں شکست پر رپورٹ تیار کرلی گئی ہے جس کے بعد اب وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان کو طلب کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان کی ہدایت پر بلدیاتی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی شکست کی وجوہات پر رپورٹ تیار کرلی گئی ہے۔رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی شکست کی بنیادی وجہ مہنگائی کے علاوہ بڑے اندرونی اختلافات تھے، بعض ارکان اسمبلی کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدواروں کو سپورٹ نہیں کیا گیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو رپورٹ پیش کرنے سے قبل وزیراعلٰی خیبرپختونخواہ محمود خان کی قریبی صوبائی وزراء سے مشاورت جاری ہے۔ذرائع کے مطابق مخالف امیدواروں کو سپورٹ کرنے پر دو ارکان قومی اسمبلی اور چار ارکان صوبائی اسمبلی کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان کو طلب کرلیا ، وزیراعلیٰ بلدیاتی انتخابات کے نتائج پر وزیراعظم کو بریف کریں گے، ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا جائے گا، وزیراعظم اگلے مرحلے کی حکمت عملی کے لیے گائیڈ لائنز دیں گے۔خیال رہے کہ خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی انتخابات میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ خیال رہے کہ اپوزیشن جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) نے مزید 2 تحصیل کونسلوں کی چیئرمین شپ جیت لی جس کےبعد بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں اس کی حاصل کردہ نشستوں کی تعداد 17 ہوگئی۔ علاوہ ازیں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) 12 تحصیلوں کی چیئرمین شپ حاصل کرنےمیں کامیاب رہی۔صوبائی دارالحکومت میں جے یو آئی (ف) کے امیدوار حاجی زبیر علی کو 62 ہزار 388 ووٹس کے ساتھ پی ٹی آئی کے امیدوار رضوان بنگش کے 5 ہزار 659 ووٹوں پر 11 ہزار کی برتری حاصل ہے۔ تاہم میئر کے انتخاب کا نتیجہ ای سی پی نے 6 پولنگ اسٹیشنز پر نقصِ امن کے باعث 6 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ ملتوی ہونے کے باعث روک دیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ زبیر علی کی برتری اتنی زیادہ ہے کہ 6 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ ووٹنگ کے نتیجے میں بھی اس کے برقرار رہنے کا امکان ہے۔ صوبائی دارالحکومت کی بقیہ چھ تحصیل چیئرمینوں کی نشستوں میں سے جے یو آئی (ف) نے 4 نشستیں حاصل کیں جبکہ پی ٹی آئی اور اے این پی نے تحصیل کونسل کی ایک ایک نشست جیت لی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں