طلاق کیس،برطانوی عدالت کا دبئی کے حکمران شیخ راشد کو اپنی سابقہ بیوی کو 550 ملین پاؤنڈ ادا کرنے کا حکم

لندن (نیوز ڈیسک) برطانوی عدالت نے طلاق کے کیس میں دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کو شہزادی شہزادی حیا بنت الحسین کو 550 ملین پاؤنڈ ادا کرنے کا حکم دے دیا ، اسے برطانوی قانونی تاریخ میں طلاق کے کیس میں سب سے بڑی ادائیگی کا حکم قرار دیا جارہا ہے ۔ برطانوی میڈیا کے مطابق دبئی کے حکمران کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سابقہ بیوی اور ان کے بچوں کو کم از کم 550 ملین پاؤنڈ (734 ملین امریکی ڈالر) ادا کریں ، لندن کے ایک جج نے شیخ محمد بن راشد المکتوم کو حکم دیا ہے کہ وہ شہزادی حیا بنت الحسین کو 3 ماہ کے اندر 251.5 ملین پاؤنڈز یکمشت

ادا کریں تاکہ حفاظتی سامان ، زیورات اور لباس جیسی گمشدہ اشیاء کو پورا کیا جا سکے ، انہیں اپنے بچوں کے تعلیم کے دوران اخراجات کے لیے تقریباً 11 ملین پاؤنڈز کی سالانہ ادائیگی بھی کرنا ہوگی ، جو 290 ملین پاؤنڈ کی بینک گارنٹی کے ذریعے محفوظ کی جائے گی۔اپنے فیصلے میں جج فلپ مور نے کہا ہے کہ شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کیس میں ثبوت نہیں دیا ، جب ایک اور جج کو پتہ چلا کہ دبئی کے حکمران نے اپنی سابقہ بیوی اور اس کی قانونی ٹیم کے فون ہیک کرنے کا بھی حکم دیا۔ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ شیخ محمد بن راشد المکتوم کو اپنے خاندان کو جو کل رقم ادا کرنی ہوگی وہ اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے کیوں کہ سالانہ حفاظتی اخراجات انہیں اپنے بچوں کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد براہ راست ادا کرنا ہوں گے۔واضح رہے کہ منگل کے فیصلے سے پہلے طلاق میں سب سے بڑا عوامی طور پر جانا جانے والا جج کا دیا گیا حکم ارب پتی فرخاد اخمدوف کی اہلیہ کو 450 ملین پاؤنڈ تھا حالاں کہ دونوں نے بعد ازاں اس رقم کے ایک تہائی سے بھی کم ادائیگی کے ساتھ تصفیہ کرلیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں