آپ میں سے کسی کا قد عمران خان کے بوٹ سے بلند نہیں،اوآئی سی کا اجلاس پاکستانیوں کے لئے فخر ہے،شہباز گل

لاہور(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ بلاول زرداری کو مشورہ ہے سیاست ویڈیو گیم نہیں ،،چوہدری برادران نے ملاقات کا بیان نہیں دیا،نواز شریف تو سب کو دعوت دیتے ہیں جہاں بات بن جائے ٹھیک وگرنہ نہیں، مریم اورنگزیب نے غلامی کے شوق میں انتہائی اہم دن پریس کانفرنس کی اور کہا کہ عمران خان کے بوٹ کا تسمہ بھی ان کا نہیں ہے ،آپ میں سے کسی کا قد عمران خان کے بوٹ سے بھی بلند نہیں ،پچھلے چند سالوں سے سموگ نے ماحول خراب کیا،وزیراعظم عمران خان کے آنے سے ماحولیاتی نظام بہتر ہو رہا ہے ،درخت لگنے

سے آنے والے دنوں میں ماحول صاف ہو گا،دنیا پاکستان کو انوائرمنٹل چمپئنکہہ رہی ہے،او آئی سی کا اجلاس تمام پاکستانیوں کے لیے فخر کی بات ہے ،چالیس سال بعد پاکستان کو دوبارہ اعزاز ملا ،پوری امت مسلمہ یہاں تشریف لائی ،افغانستان ہمارے ساتھ جڑا ہوا بھائی ہے ،جس کو ہم کبھی تنہا نہیں چھوڑ سکتے ،وہاں کے حالات کے لیے پاکستان نے سب سے پہلے آواز اٹھائی ،جب وہاں مسئلہ شروع ہوا سب پریشان تھے ، وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان کی صورتحال پر ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھائی ،انسانی المیہ پر ہر چیز کو بالائے طاق رکھ کر سوچنا پڑے گا،او آئی سی کا بہت کامیاب اجلاس ہوا۔گورنر ہائو س لاہور میںپریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ او آئی سی میں اہم ترین فیصلے کئے گئے ،اوآئی سی نے افغانیوں کو تنہا نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے،الجزیرہ کا انٹرویو بہت پہلے لیا گیا لیکن انہوں نے اپنی مرضی سے اسے چلایا ،پوری مسلم امہ نے عمران خان کی آواز کا سا تھ دیا ۔ انہوںنے کہا کہ مریم اورنگزیب نے انتہائی اہم دن غلامی کے شوق میں پریس کانفرنس کی ،انہیںکچھ باتیں کی ،ایک وہ عمران خان کے خرچے کی باتیں کرتی رہیں ،جب ایک شخص انکار کر دے تو اپنی بات واپس لینی چاہیے،آپ الزام ثابت کریں یا معافی مانگیں، مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان کے بوٹ کا تسمہ بھی ان کا نہیں ہے ،آپ میں سے کسی کا قد عمران خان کے بوٹ سے بلند نہیں ،اگر آپ کے گرد ان کا تسمہ لپیٹ دیں تو آپ ختم ہو جائیں، آپ جواب دیں آپ کے ملازمین کے اکائونٹ میں اتنے پیسے کس نے جمع کروائے ،عدالتی احکامات

کے برعکس اپنی شوگر مل جنوبی پنجاب لے گئے،400کروڑ روپے کس کے بوٹوں کے تسموں میں باندھ کر ملازمین کے اکائونٹ میں رکھے گئے ،پتہ نہیں شریف خاندان کو اتنے کم پیسوں میں ملازمین کہاں سے مل جاتے ہیں،چند ہزار تنخواہیں لینے والوں کے اکائونٹ میں اربوں روپے آتے رہے ۔انہوںنے کہا کہ آپ کو عمران خان کے تسمے نظر آتے ہیں ،بھارت سے آنے والے کپڑے آپ کو نظر نہیں آتے،یہ اے ٹی ایم کی بات بہت کرتے ہیں ،آپ نے لکھ کر مانا کے قطری ہمارے اے ٹی ایم ہیں ،لندن کے اپارٹمنٹ انہوں نے بھیک میں دیدئیے تھے ،قطریوں کو کونسی سہولیات دی ہیں جس سے اپارٹمنٹ مل جاتے

ہیں ،آپ کس منہ سے دوسروں کی باتیں کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پر اٹھنے والے ہر سوال کا جواب دے رہے ہیں ،ہم نے چالیس سال کا حساب دیا،آپ لوگوں نے اربوں میں سرکاری دورے کئے ،عمران خان نے 16کروڑ میں دورے کئے ۔آ پ بتائیںآپ کے پاس پیسہ کہاں سے اور کیوں آیا ،ثابت ہونے کے لیے عدالت میں مقدمہ چلتا ہے ،مریم اور نواز شریف پر الزام ثابت ہوئے ان کو سزا ہوئی جہاں مزید کرپشن ثابت ہونی ہے وہاں تاریخ پر تاریخ لیتے ہیں ،یہ لوگوں کو ویڈیوزکی دھمکیاں دیتے ہیں ،کیس چلیں گے تو فیصلہ ہو گا،آپ کے پاس کلرکوں کے اکائونٹس میں پیسہ آنے کا جواب

نہیں ہے ۔ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ ہو سکتا ہے شہزاد اکبر کسی کو پسند نہ ہوں ،شہزاد اکبر یہاں ہی ہیں ،یہ بھی ان ثبوتوں کا جواب دیں جو شہزاد اکبر نے دئیے ہیں آپ تسموں میں کھو گئے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں کہا کہ ابھی تک خیبر پختوانخواہ سے نتائج مکمل نہیں آئے اس لیے بات نہیں کر سکتا،مقامی حکومتوںکا الیکشن بہت مختلف ہوتا ہے وہاں نمائندے مقامی ہوتے ہیں کئی جگہ پر پی ٹی آئی آپس میں لڑ رہی ہے،ابھی تک کوئی بھیانک الیکشن نہیں آئے،تشدد کا عنصر افسوس ناک ہے، وفاقی وزیر شبلی فراز پر حملہ ہوا وہ افسوسناک بات ہے ،اے این پی کے امیدوار قتل ہوئے وہ بھی غلط

بات ہے ،رویے شدت پسند نہیں ہونے چاہیے ،ڈی آئی خان میں تحریک انصاف نے 83 فیصد کامیابی حاصل کی ۔انہوںنے کہا کہ کس کو نہیں پتہ کہ بھارت پاکستان کی دشمنی میں ہر اچھے کام سے دور ہوتا ہے ،اگر وہ افغانستان کے معاملات پر کچھ اچھا نہیں کر سکتا تھا تو خاموش رہے ،پاکستان کی کال پر امت مسلمہ کی دلچسپی سب کے سامنے ہے ،پاکستان کہیں بھی ظلم ہوتا ہے اس کے خلاف کھڑا ہوتا ہے ،ہم سے پہلے حکمران کشمیر میں جا کر حریت رہنمائوں سے نہیں بھارتیوں سے ملتے تھے ،عمران خان نے ہر جگہ کشمیر فلسطین کی بات کی ہے ،او آئی سی اجلاس میں بھی انہوں نے اس پر بات کی ،ہم مسلم امت سے انسانیت کے ناطے توقع رکھتے ہیں وہ ہمارا ساتھ دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں