حملے پر شبلی فراز اور ڈی آئی جی کوہاٹ کے بیانات میں تضاد سامنے آگیا

پشاور (نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز پر آدم خیل کے مقام پر حملہ کیا گیا، حملے کے نتیجے میں وہ خوش قسمتی سے محفوظ رہے تاہم گارڈ اور ڈرائیور زخمی ہو گئے۔تاہم حملے کے حوالے سے وفاقی وزیر شبلی فراز اور ڈی آئی جی کوہاٹ طاہر ایوب کے بیانات میں تضاد پایا جا رہا ہے۔شبلی فراز کے مطابق ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی ہے لیکن پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزیر کی گاڑی پر فائرنگ نہیں ہوئی بلکہ پتھراؤ کیا گیا۔انہوں نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ وفاقی وزیر کی گاڑی پر فاٹا انضمام کے مخالف مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔انہوں نے کہا کہ پتھراؤ

سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا جس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔واقعے میں شبلی فراز کی گاڑی کی فرنٹ ونڈ اسکرین ٹوٹی ہے۔شبلی فراز نے کہا ہے کہ حملہ آور وں نے کالے جھنڈے اٹھائے ‏ہوئے تھے فائرنگ ہوئی ، پتہ نہیں کیسے بچ گئے ، میرا ڈائیور زخمی ہے۔وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہا کہکوہاٹ اپنا ووٹ کاسٹ کرنے ‏گیا تھا تو واپسی پر میری گاڑی پر حملہ کیاگیا فائرنگ ہوتےہوئےمیں نےاپنی آنکھوں سےدیکھا۔ حملہ آوروں کاحلیہ مختلف قسم کاتھاپولیس پربھی حملہ کیا حملہ آوروں کاحلیہ ‏کہیں سےکسی سیاسی جماعت کےکارکنان کانہیں تھا انہوں نےکالےجھنڈے اٹھائےتھےجو کسی ‏سیاسی جماعت کےنہیں لگتے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ موٹرسائیکل سواروں نےمیری گاڑی کاپیچھا بھی کیا فائرنگ ہوئی، حملہ ‏آوروں نے میری گاڑی کو ڈنڈوں اور کلہاڑیوں سے مارا پتہ نہیں کیسے بچ گئے ، میرا ڈائیور زخمی ‏ہے اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ روز وفاقی وزیر شبلی فراز کی گاڑی پر فائرنگ، نامعلوم افراد کی اندھا دھند فائرنگ سے گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے، فائرنگ کے نتیجے میں شبلی فراز کا ڈرائیور اور گارڈ زخمی ہو گئے۔تاہم خوش قمستی سے شبلی فراز حملے میں محفوظ رہے۔ وفاقی وزیر شبلی فراز آبائی علاقے کوہاٹ سے پشاور آرہے تھے کہ درہ آدم خیل کے مقام پرنامعلوم افراد نے گاڑی پر فائرنگ کردی۔حملے میں وفاقی وزیر محفوظ رہے تاہم ان کے گارڈ اور ڈرائیور زخمی ہوگئے جبکہ مقامی پولیس بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار‏سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات نے وفاقی وزیرشبلی فراز پر حملےکی شدید مذمت کی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں