ملکہ کوہسار مری میں سیاح فیملی کیساتھ بدسلوکی کا معاملہ، ہوٹل مینیجر سمیت 10افراد کیخلاف بڑا قدم اٹھالیا گیا

مری(مانیٹرنگ ڈیسک) مری میں نجی ہوٹل پر سیاحوں اور ہوٹل انتظامیہ کے مابین تلخ کلامی اور لڑائی جھگڑے ہوا، ہوٹل مینیجر سمیت 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،واقعہ گلوریا جینز نامی انٹرنیشنل کافی چین کے ہوٹل میں پیش آیا جو کہ ایکسپریس وے پر پیش آیا۔ ایس پی صدر راولپنڈی نے معاملے کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ سیاح علی توقیر کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ملزمان کی گرفتاری کے لیےچھاپے مارے جا رہے ہیں، ملزمان کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائیگی۔ کسی کو بھی تشدد، ہراساں کرنے یا دھمکانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، میرٹ اور قانون کی بالا دستی کو یقینی بنایا جاۓ گا۔

خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے واقع پر نوٹس لیا گیا تھا اور پولیس کو ہدایت کی گئی تھی کہ ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے۔خیال رہے کہ2018 میں مری میں سیاحوں کے ساتھ بدتمیزی اور تشدد کے واقعات میں انتہائی غیرمتوقع طورپر بڑھ گئے تھے،جبکہ سیاحوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ مری میں بےجا مہنگائی بھی کی گئی ہے دس روپےکی چیز 50 روپے میں فروخت کی جاتی ہے،جس کے بعد مری میں سیاحوں اور لوگوں نے جانے سے انکار کیا تھا اور ایک مہم ‘‘بائیکاٹ مری ’’ کا بھی آغاز کیا تھا جس کے بعد تشدد اور بدتمیزی کے واقعات میں کمی آئی تھی ،تاہم مری میں دوبارہ ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں ۔خیال رہے کہ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے اعداد و شمار کے مطابق گرمیوں اور سردیوں کی تعطیلات کے دوران روزانہ کم و بیش 10 ہزار سیاح مری کا رُخ کرتے ہیں۔ سالانہ یہ تعداد ایک کروڑ تک بتائی جاتی ہے۔ مری کی معیشت کا تمام تر دارومدار سیاحت پر ہے مگر عمومی طور پر سیاحوں کا مؤقف یہی ہے کہ یہاں کے لوگ مہمان نواز نہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.