اگر بھارت پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو پاکستان اتناہی موثر جواب دیگا جیسا فروری 2019میں دیا تھا ،عمران خان کا دبنگ بیان

​ اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کشمیر کامسئلہ ہر فورم پر اجاگر کیا اور کرتے رہینگے ،بی جے پی کی حکومت بھارت اورخطے کیلئے خطرناک ہے، اگر بھارت پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو پاکستان اتناہی موثر جواب دے گا ،افغانستان کے ایک کروڑ 40 لاکھ عوام امداد کی منتظر ہیں،دنیا نے توجہ نہ دی تو انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے،نبی کریمۖ میرے رول ماڈل ہیں، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کی کو شش کررہے ہیں ،قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی معاشرہ مہذب نہیں بن سکتا، دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔غیر ملکی میڈیا کو دیئے گئے

انٹرویومیں وزیر اعظم نے کہاکہ افغانستان کو بہت سارے بحرانوں کا سامنا ہے، افغانستان کی صورتحال تشویشناک ہے، پاکستان میں پہلے ہی 30 لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں، دنیا نے افغانستان پر توجہ نہ دی تو انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، نائن الیون میں کوئی افغان شہری ملوث نہیں تھا تاہم افغانستان پرامریکہ کی مسلط کردہ جنگ ایک جنونی عمل تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان میں نام نہادجنگ کے نام پر20 سال تک قبضہ کیے رکھا، سمجھ نہیں آیا ،امریکی افغانستان میں کیا اہداف حاصل کرنا چاہتے تھے، افغانستان کے ایک کروڑ 40 لاکھ عوام امداد کی منتظر ہیں اور امریکہ کو اب افغان عوام کا ساتھ چھوڑنا نہیں چاہیے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق، عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں جہاں 80 لاکھ کشمیری کھلی جیل میں رہ رہے ہیں اور 8 لاکھ بھارتی فوجیوں نے انہیں کھلی جیل میں بند کررکھاہے، ہم نے اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھایا ہے، ہم نے یہ معاملہ اسلامی تعاون تنظیم میں اٹھایا اور اسلامی ممالک سے بات بھی کی ہے، اسلامی ممالک کے بھارت کے ساتھ اپنے اپنے تعلقات ہیں اور آپ ان سے کچھ زیادہ توقع نہیں کر سکتے لیکن پاکستان اپنے طورپر یہ اپنا فرض سمجھتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے اس کو عالمی سطح پر اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے 20 سال تک کرکٹ کھیلی، ورلڈ کپ جیتنے کے بعد اطمینان کااحساس ہوا،

کھیل آپ کو مشکل حالات میں لڑناسیکھاتے ہیں، آپ کی ناکامی آپ کا بہترین استاد ہے جو آپ کو مقابلہ کرنا سیکھاتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میری والدہ پاکستان کو ایک عظیم ملک کے طور پر دیکھنا چاہتی تھی، والدہ کی وفات کے بعد کینسر ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ قانون کی حکمرانی کے بغیرقائم نہیں رہ سکتا اورکرپشن ملک کو تباہ کردیتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت بھارت اورخطے کیلئے خطرناک ہے، بھارت میں بی جے پی کی حکومت ہے جو فاشسٹ جماعت ہے، اگر بھارت پاکستان پر

حملہ کرتا ہے تو پاکستان اتناہی موثر جواب دے گا جیسا فروری 2019 میں دیا تھا۔ کورونا وبا کے دوران سمارٹ لاک ڈائون کے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اس کی صرف ایک وجہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اگر میں نے ملک بند کردیا تو دیہاڑی دار لوگوں کاکیا بنے گا، جن کے خاندانوں کا گزارا ان کی روزانہ کی کمائی پر ہوتا ہے، اگر میں معیشت کو بندکردیتا تو ٹیکسی اور رکشہ ڈرائیور اور چھابڑی والوں کاکیا بنتا جو اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں، میں غریب طبقے کو کچلنا نہیں چاہتا تھا، ہم نے سمارٹ لاک ڈائون کی حکمت عملی اپنائی اور کچھ علاقوں میں لاک ڈائون لگایا،

میں یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ وہ بھوک سے مر جائیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف آپ کورونا سے لوگوں کو بچا رہے ہیں تو دوسری طرف وہ بھوک سے مررہے ہوں ، میں ایسا کرنے کو تیار نہیں تھا۔ وزیراعظم نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ میں تین سال بہت مصروف رہا ہوں اور میری کوئی سماجی مصروفیت نہیں رہی،ایک ہی آپشن ہے کہ میں پہاڑی علاقوں میں جائوں، ہمیشہ میرا رجحان ماحول کی طرف تھا کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ پاکستان میں دنیا کے خوبصورت ترین پہاڑی مناظر ہیں، میں سویٹزر لینڈ اور آ سٹریا سمیت دنیا میں ہر جگہ گیا لیکن وہ خوبصورتی کہیں بھی

نہیں جو پاکستان کے ہمالیہ ، قراقرم اور دیگر پہاڑی سلسلہ میں پائی جاتی ہے۔ روایتی پاکستانی لباس پہننے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں ملک کا وزیر اعظم ہو ں ، 90 فیصد سے زائد لوگ ایسے ہی کپڑے پہنتے ہیں، میں اپنے لوگوں کی نمائندگی کرتا ہومیرے عوام جو کپڑے پہنتے ہیں میں بھی انہی جیسا لباس پہنتا ہوں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں