شیر شاہ دھماکے کے بعد بینک کی متاثرہ عمارت سے پیسوں سے بھرے بیگ چوری کر لیے جانے کا انکشاف

کراچی (نیوز ڈیسک) شیر شاہ دھماکے کے بعد بینک کے سکیورٹی گارڈ نے پیسوں سے بھرا ایک بیگ لٹنے سے بچا لیا۔ پیسوں سے بھرے 1 بیگ کو لوٹنے سے بچا لیا گیا، تاہم روپوں سے بھرے کچھ بیگز لوگ لوٹ کر لے گئے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی شیر شاہ دھماکے میں جہاں بھاری جانی نقصان ہوا ہے وہاں لوٹ مار کی شکل میں مالی نقصان کی بھی اطلاعات ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکے کے بعد افراتفری کی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ لوگ پیسوں سے بھرے بیگز لوٹ کر فرار ہو گئے۔ بینک کے سکیورٹی گارڈ نے بتایا ہے کہ وہ پیسوں سے بھرے ایک بیگ کو لوٹنے سے

بچانے میں کامیاب رہا تاہم کچھ بیگز عوام لوٹ کر لے گئے۔ واضح رہے کہ شیر شاہ دھماکے میں تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عالمگیر خان کے والد سمیت درجن سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ کراچی شیر شاہ دھماکے میں پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان کے والد بھی جاں بحق ہوگئے ہیں، عالمگیرخان کے والد کراچی کی کاروباری شخصیت ہیں، وہ ہیوی ڈیوٹی مشینری کا کاروبار کرتے تھے، جب دھماکا ہوا اس وقت وہ کسی ٹرانزیکشن کے سلسلے میں بینک میں موجود تھے۔مزید تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے شیر شاہ کے پراچا چوک پر ایک عمارت میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق جبکہ 12 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکا ایک نجی بینک میں ہوا جس کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ عمارت کے پلرز اکھڑ گئے، زوردار دھماکے سے قریبی واقع پیٹرول پمپ کے علاوہ متعدد گاڑیوں اور موٹر سائیکلز کو بھی نقصان پہنچا۔دوسری جانب بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ابتدائی رپورٹ جاری کردی گئی ہے، جس کے تحت سیوریج لائن میں گیس کے اخراج کے باعث دھماکا ہوا ہے، دھماکے سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ علاقے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) ظفر علی شاہ نے بتایا کہ بینک کی عمارت نالے پر تعمیر تھی جنہیں کچھ عرصے قبل نوٹس دیا گیا تھا کہ نالے کی صفائی کے لیے بینک کو خالی کردیں۔دھماکے کے فوری بعد علاقہ مکین اور ریسکیو ٹیمز جائے وقوع پر پہنچ گئے

اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ترجمان رینجرز کے مطابق دھماکے کی وجہ کا تعین کیا جارہا ہے اور رینجرز کے جوانوں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیراؤ کرلیا۔گورنر سندھ عمران اسمعیل اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں