مجھے کئی مرتبہ ہراساں کیا گیا،کشمالہ طارق

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی کشمالہ طارق کا کہنا ہے کہ مجھے کئی مرتبہ ہراساں کیا گیا۔اس عہدے پر بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔میرے دور میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کو سنجیدگی سے لیا گیا۔سماء نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے کئی مرتبہ ہراساں کیا گیا۔میرے دور میں جنسی ہراسانی کیس میں سات گنا اضافہ ہو گیا ہے۔دلیرانہ فیصلے کی وجہ سے میری کردار کشی کی گئی ہے۔ استعفیٰ لینے کے لئے مجھ پر دباؤ ڈالا گیا۔کشمالہ طارق نے مزید کہا کہ سیاست سے علیحدگی کے بعد بہت اچھا محسوس کرتی ہوں، واپس اپنی ہی فیلڈ میں کام کرنا بہت اچھا لگا۔

کشمالہ طارق کا کہنا ہے کہ جنسی ہراسانی کے کیسز میں بیوروکریٹ، 22 گریڈ کے افسر بھی شامل ہیں۔بینکوں اور بڑے بڑے آرگنائزیشن کے ہیڈز کو اس معاملے پر استعفی دینا پڑے۔قبل ازیں وفاقی محتسب برائے تحفظ ہراسانی کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ آزادانہ طور پرہراساں کیے جانے کے خوف کے بغیر کام کرنے کا موقع فراہم کیا جانا ہر عورت کا حق ہے۔کشمالہ طارق نے جنسی بنیاد پر تشدد کے خلاف 16 دن کی سرگرمی کے موضوع کے تحت منعقدہ ایک آگاہی سیشن میں شرکت کی۔پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر ایئر مارشل ارشد ملک، اقوام متحدہ کی خواتین کی کنٹری نمائندہ برائے پاکستان شرمیلا رسول اور دیگر بھی موجود تھے۔گزشتہ دنوںمنعقدہ تقریب میں پی آئی اے کے ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی محتسب کشمالہ طارق نے کہا کہ پاکستان کی تقریبا نصف افرادی قوت خواتین پر مشتمل ہے، جنکی اکثریت کو معاشرتی اور معاشی خوشحالی میں بھرپور حصہ ڈالنے سے محروم رہنے کا احساس رہتا ہے، جس کی وجہ انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہر عورت کا حق ہے کہ انہیں آزادانہ طور پرہراساں کیے جانے کے خوف کے بغیر کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے جس طرح ہمارے معاشرے کے مرد اراکین کو فراہم کیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں