پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے اربوں ڈوب گئے

کراچی (نیوز ڈیسک) سٹاک مارکیٹ کریش ہونے سے بال بال بچ گئی۔تفصیلات کے مطابق اومی کرون کے پھیلاو کے سبب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کارجحان جاری ہے، امریکی سٹاک مارکیٹس بھی مندی کا شکار ہو گئیں۔ امریکی خام تیل کی قیمتوں میں فی بیرل 61 سینٹ کمی ہوئی جس کے بعد قیمت پینسٹھ اعشاریہ ستاون ڈالر فی بیرل ہو گئی برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بھی اڑسٹھ اعشاریہ ستاسی ڈالر فی بیرل و گئی۔امریکا میں اومی کرون کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد امریکی سٹاک مارکیٹس بھی مندی کا شکار ہو گئیں۔ڈاؤجونز میں 460 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، ایس اینڈ پی 500

کے شیئرز ایک اعشاریہ دو فیصد، نصداق کمپوزٹ انڈیکس ایک اعشاریہ آٹھ فیصد گر گئی۔جبکہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی شدید مندی دیکھنے میں آئی ہے۔ہنڈرڈ انڈیکس 4.5 فیصد کمی کے ساتھ 2 ہزار سے زائد پوائنٹس گر گیا۔بارار حصص کا آغاز 45ہزار 369 سے ہوا۔کم ترین سطح 43 ہزار 272 تک ریکارڈ ہوئی۔سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے۔انٹربینک میں بھی ڈالر کی اونچی اڑان جاری ہے۔ڈالر 67 پیسے مہنگا ہو کر ڈالر 176 روپے 15 پیسے کا ہو گیا۔جبکہ گذشتہ روز بتایا گیا تھا کہ پاکستانی برآمدات ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک ما ہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں،نومبر میں ملکی بر آمدات 2ارب 90کروڑ30لاکھ ڈالرز کی بلند ترین سطح پر رہیں۔مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے ملکی بر آمدات میںاضافہ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نومبر میں پاکستانی برآمدات میں 33 فیصد کا اضافہ ہوا ،نومبر میں 2.903 ارب ڈالر کی مجموعی برآمدات رہیں جبکہ گزشتہ سال نومبر میں 2.174 ارب ڈالر ز کی بر آمدات ریکارڈ کی گئی تھیں،نومبر2021 میں حکومت کا پاکستانی برآمدات کا ہدف 2.6 ارب ڈالر تھا، رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں برآمدات میں 27 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، اور اب تک پانچ ماہ میں 12.365 ارب ڈالر کی برآمدات کی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں