پنجاب میں جنگلی جانوروں کا گوشت کھلائے جانے کا انکشاف

پیر محل (نیوز ڈیسک)پنجاب میں شہریوں کو جنگی جانور کھلائے جانے کا انکشاف ہوا ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے شہر پیر محل کے ہوٹل میں گاہکوں کو جنگلی جانوروں کا گوشت کھلائے جانے کا انکشاف ہوا جس کے بعد محکمہ وائلڈ لائف نے ہوٹل پہنچ کر کارروائی کی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق محکمہ وائلڈ لائف نے شورکوٹ روڈ پر واقع ہوٹل پر چھاپہ مار کر ہوٹل کے مالک اور منیجر کو حراست میں لے لیا۔محکمہ وائلڈ لائف کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان ہوٹل میں جنگلی جانوروں کے گوشت کی ڈشز پیش کرتے تھے۔ محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق کارروائی کے دوران مذکورہ ہوٹل سے زندہ

جنگلی پرندے، مرغابیاں، کالے تتر، جنگلی کبوتربھی برآمد کیے گئے ہیں۔ وائلڈ لائف حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان ذوالفقار اور شکیل کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ تحویل میں لیے گئے پرندوں کو آزاد کردیا گیا ہے۔یاد رہے کہ رواں برس اکتوبر میں پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی حکومت نے پرندوں اور جانوروں کے شکار کے لیے استعمال ہونے والی ایئر گن پر پابندی عائد کی تھی۔ یہ پابندی محکمہ جنگلی حیات کی طرف سے ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے عائد کی گئی تھی۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹرمحکمہ جنگلی حیات لاہور ریجن تنویر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ ہم نے صوبہ بھر میں آپریشن شروع کر رکھا ہے جس میں ایئرگن سے پرندوں اور جانوروں کا شکار کرنے والے کو گرفتار کر کے ان پر جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے جب کہ اس جرمانے کی کم از کم حد 10 ہزار روپے ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل پنجاب فوڈ اتھارٹی نے لاہور میں مردہ جانوروں اور مرغیوں کا گوشت سپلائی کرنے کی ایک اور کوشش کو ناکام بنایا تھا۔ ترجمان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ فوڈ اتھارٹی نے کارروائی کے دوران خفیہ طور پر لاہور لے جائے جانے والے مردہ جانور اور 3 ہزار 50 کلو مردہ مرغیاں برآمد کی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں