آئی جی انعام غنی کو انسانی اسمگلنگ میں ملوث قرار دیا جاچکا ہے، سابق آئی جی پولیس کا انکشاف

لاہور(نیوز ڈیسک) سابق آئی جی موٹروے پولیس ذوالفقار چیمہ نے کہا ہے کہ آئی جی انعام غنی کو انسانی اسمگلنگ میں ملوث قرار دیا جاچکا ہے، انسانی اسمگلنگ میں ملوث بدنام زمانہ انعام غنی بڑے صوبے کا آئی جی کیسے بن گیا؟کیپٹن شعیب کی سربراہی میں ایف آئی اے کی کمیٹی نے انعام غنی کو ملوث قرار دیا تھا، کیپٹن شعیب نے موجودہ وزیراعظم کو تمام حقائق سے بھی آگاہ کیا۔انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے موجودہ آئی جی پولیس کی کریڈیبلٹی بارے بتایا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث بدنام زمانہ انعام غنی بڑے صوبے کا آئی جی کیسے بن گیا؟ انسانی اسمگلنگ کے کیسز بڑھ گئے تھے،

برٹش ایمبیسی نے شکایت کی، حکومت نے انکوائری ایف آئی اے کے ذمے لگائی، ایف آئی اے کیپٹن شعیب کی سربراہی میں کمیٹی بنائی، کمیٹی نے انعام غنی کو ملوث قرار دیا۔پھر کیپٹن شعیب نے موجودہ وزیراعظم سے ملاقات کی۔ ان کو سارے حقائق سے بھی آگاہ کیا۔ ذوالفقار چیمہ نے کہا کہ حکومتی ٹیم کی یہ ساری پریس کانفرنس کسی دباؤ کے تحت کی گئی ہے۔ میرے خیال میں تاریخ کا واحد کیس ہے جس میں ملزم تو گرفتار نہیں ہوئے لیکن 25، 25 لاکھ انعام کا اعلان کردیا گیا ہے۔ یعنی ابھی ملزمان کی شناخت نہیں ہوئی ہے، متاثرہ خاتون نے ابھی تک ملزمان کی شناخت نہیں کی، پتا نہیں وہ شناخت کرتی ہیں یا نہیں۔ہمیں دوسرے ممالک سے سیکھنا چاہیے اب تو ہر ملک کی خبر ہمارے میڈیا پر بھی آجاتی ہے۔ پولیس کرائم سین پر ایک ییلو ٹیپ لگاتی ہے۔ کسی بھی غیرمتعلقہ شخص کو کرائم سین پر نہیں جانے دیا جاتا لیکن یہاں ہم نے ٹی وی پر دیکھا کہ سیاسی لیڈران کا ایک لشکر وہاں گیا۔ اسی طرح پریس کانفرنس جو بھی چیز بتانی ہو وہ ایک پروفیشنل پولیس آفیسر کو بتانی چاہیے۔واضح رہے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے آئی جی پنجاب پولیس کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اور میری ٹیم نے سائنٹیفک طریقے سے کیس کی تحقیقات کیں۔ 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اس دلخراش واقعے کے اصل ملزمان تک پہنچے ہیں۔ میں یقین دلاتا ہوں جن درندوں نے یہ ظلم کیا ہے وہ بہت جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔ ملزمان کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جن ملزمان کی شناخت ہوئی ہے ان ملزمان کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کو 25، 25 لاکھ انعام دینے کا

بھی اعلان کرتا ہوں۔ ایسے شخص کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ اس موقع پر انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس انعام غنی نے بتایا کہ ہم ملزمان کے پیچھے ہیں جلد گرفتار کرلیں گے۔ سائنسی ثبوتوں کے ساتھ ملزم عابد کی رات 12 بجے ڈی این اے میچ ہونے کی تصدیق ہوئی۔جس پر اس کا سارا ریکارڈ اور شناختی کارڈ حاصل کیا۔ پھر معلوم ہوا کہ وہ فورٹ عباس کا رہائشی ہے۔ ہماری ٹیم نے رات کو بڑا اچھا کام کیا اور ریکارڈ حاصل کیا۔ ملزم کے نام پر چار سمز تھیں۔ ایک نمبر اس کے استعمال میں تھا لیکن نام پر نہیں تھا۔ ملزم عابد کا فون نمبر ملا تو ملزم عابد کے ٹیلیفون کے ذریعے اس کے ساتھی ملزم تک پہنچ گئے۔ ہماری پولیس نے جب قلعہ ستار شاہ میں چھاپہ مارا تو ملزمان کو اطلاع مل گئی تھی کہ پولیس

ہم تک پہنچ گئی ہے۔ہماری پولیس ٹیم کے اہلکار سادہ کپڑوں میں کھیتوں میں ایک ڈیرے پر گئے تو ملزم اور اس کی بیوی فرار ہوگئے۔ لیکن ان کی بچی ہمیں مل گئی۔ دوسرا ملزم بھی فرار ہوگیا ہے۔ دونوں ملزمان کو ریکارڈ مل گیا ہے۔ ہماری ٹیمیں ان کے پیچھے ہیں۔ ملزمان کو جلد گرفتار کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موٹروے پولیس نہ ہونے پر خاتون کو بروقت امداد نہ مل سکی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.