کسی ملک پر کرپٹ لیڈر سے بڑا اور کوئی عذاب نہیں ہوسکتا،وزیراعظم

جہلم (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کسی ملک پر کرپٹ لیڈر سے بڑا اور کوئی عذاب نہیں ہوسکتا، لیڈر کبھی ایسا نہیں کرتا کہ اپنے رشتہ داروں کو اہم عہدوں پر لے آئے، ملک میں میرٹ کا نظام ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ جب کرپشن کو برائی نہ سمجھا جائے تو معاشرے میں محنت کون کرے گا، بدقسمتی سے پاکستان میں چوروں کو برا نہیں سمجھا جاتا۔تفصیلات کے مطابق جہلم کی القادر یونیورسٹی کے اکیڈمک بلاکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ایمان والا آدمی بہت سی پابندیوں سے آزاد ہوجاتا ہے، انسان کا ایمان زنجیریں توڑ دیتا ہے۔

جب کرپشن کو برائی نہ سمجھا جائے تو معاشرے میں محنت کون کرے گا ؟ جب ہم کرپشن کو برا نہیں سمجھتے تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے، اخلاقیات کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، لاہورمیں ایک سیمینار ہوا جس میں سپریم کورٹ کے ججز بلائے گئے، سیمینار میں اس بندے کو بھی بلایا گیا جو ملک کا پیسہ چوری کر کے باہر بھاگا ہوا ہے، سیمینار میں اس چیف گیسٹ کو بلایا گیا جوسزا یافتہ ہے، سب سے بڑی برائی یہی ہے کہ ہم چوروں کو برا نہیں سمجھتے۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ دنیا کے عظیم لیڈ ر تھے، بحیثیت تاریخ کا طالب علم میں اس نتیجے پر پہنچا کہ رسول اللہ ﷺکی سیرت پر چلنے میں کامیابی ہے، جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی راہ پر چلتے ہیں وہی آگے جاتے ہیں، اللہ نے مجھے شہرت ،پیسہ اور سب کچھ دیا،میں سیاست میں تبدیلی لانے کے لیے آیا، خواہش تھی ملک میں سیرت ﷺ اتھارٹی قائم کریں، ریسرچ سے ہی جامعات بنتی ہیں، ریسرچ ہوئی ہی نہیں کہ دنیا کی امامت کس نے اور کس طرح کی۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا، پھر پاکستان زوال کی جانب جانا شروع ہوگیا، انسان میں وہ خصوصیات ہیں جو کسی اور مخلوق میں نہیں، لوگ مجھے سیاست میں آنے سے پہلے جانتے تھے، سیاست میں جتنے لوگ پہلے آئے انہیں کوئی نہیں جانتا تھا، میں سیاست میں تبدیلی لانے کے لیے آیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں چوری کرنے والا لیڈر شپ نہیں کرسکتا کیوں کہ وہ معاشرے کونقصان پہنچاتا ہے، خود غرض آدمی کبھی قائد نہیں بن سکتا کیوں کہ وہ

اپنی ذات سے اوپر سوچتا ہے، اور بزدل انسان لیڈر شپ کر ہی نہیں سکتا، مغرب آج سیرت ﷺ پرریسرچ کررہاہے کیونکہ وہاں فتویٰ لگ جانے کا ڈر نہیں۔مدینہ کی ریاست میں لیڈروں کی بارش تھی کیونکہ وہ بلا خوف سرگرم تھے، ترقی کے لیے ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا، مدینہ کی ریاست میں خوف خدا لوگوں کے دلوں میں زندہ تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ مسلمان دنیا میں ذہنی غلام ہیں، ہمارے پاس سب سے اہم چیز ایمان کی دولت ہے، ایماندار شخص بہت سی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے، ہمارا تعلیمی نظام ہی ہماری کامیابی کے آڑے آگیا، تعلیمی نظام تقسیم ہوا اور مسائل نے جنم لیا، تعلیمی نظام میں یکسانیت ضروری ہے، یکساں نظام تعلیم سے غریب کو فائدہ ہوگا۔سچ اور انصاف کے بغیر کوئی بڑا لیڈر نہیں بن سکتا، ملک میں سب سے بڑا مسئلہ مغربی ثقافت کا عام ہونا ہے، اسلام کیخلاف جب کوئی معاملہ ہو تو پاکستان سب سے آگے ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں