حکومت نے تین سال میں برآمدات، صنعت و تجارت، زراعت اور ملکی معیشت کوترقی کی راہ پر گامزن کردیا

فیصل آباد(نیوز ڈیسک)وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ شریف اور زر داری خاندان ملک کو قرضوں کی دلدل سے ڈوبا ہو ا چھوڑ کر گئے ،دنیا بھر میں ان کی چوری پر کتابیں لکھی جارہی ہیں ،حکومت نے تین سال میں برآمدات، صنعت و تجارت، زراعت اور ملکی معیشت کوترقی کی راہ پر گامزن کردیا،تعمیراتی شعبہ بھی پورے عروج پر ہے،حالات سازگار ہوچکے ہیں ، جلد غربت و بیروزگاری کا خاتمہ ہوگا۔اتوار کی رات اپنے حلقہ نیابت این اے 108 فیصل آباد کے علاقہ سرسید ٹان میں 31 لاکھ روپے کی لاگت سے گورنمنٹ سٹی ڈسپنسری کی رینوویشن و امپروومنٹ،ڈی بلاک میں پینے کے صاف پانی کیلئے واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب، بی و ڈی بلاک میں 10 ملین روپے

سے واٹر سپلائی لائنز کی بحالی، عبداللہ را والے جناز گاہ کارپٹ روڈ کی تعمیر، ایم سی پرائمری سکول میں کمروں کی تعمیرسمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب کے موقع پر خطاب میں انہوں نے کہا کہ ان کے حلقہ کے لوگوں نے انہیں عمران خان کے نام پر ووٹ دیئے اور انہوں نے کامیاب ہوکر اسمبلی میں عمران خان کو ووٹ دیا اور اللہ کے فضل و کرم سے وزارت عظمی کی کرسی تک پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان نے حکومت سنبھالی تو پتہ چلا کہ سابق کرپٹ حکمران جن میں زرداری اور شریف خاندان شامل ہیں ملک کوقرضوں کی دلدل میں ڈوبا ہوا چھوڑ کر گئے ہیں اور ملک کے پاس صرف 15 دن کے ریزرو موجود تھے، پاورلومز نہ صرف بند بلکہ ٹماٹرکے بھا کباڑ میں بک رہی تھیں، ٹیکسٹائل سیکٹر تباہ ہوچکا تھا، کسان کا استحصال کیا جارہا تھا،عام آدمی کی حالت انتہائی خراب ہوچکی تھی اور سابق حکمران ملک کو لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں، محلات اور کاروباری امپائرز بنارہے تھے لیکن عمران خان نے ہمت نہ ہاری اور دن رات ملکی ابتر حالت سدھارنے کیلئے کام کیا اور آج اللہ کے فضل سے ہمارے پاس 4 ماہ کا امپورٹ بل ادا کرنے کیلئے ڈالرز موجود ہیں،ہماری ایکسپورٹ 25.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جو جلد 30 ارب ڈالر تک پہنچ جا ئے گی اسی طرح آئی ٹی کی برآمدات 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں جو جلد 3 ارب ڈالر ہوجائیں گی نیز زرعی ترقی اپنے عروج پر ہے اور پہلے گنے کے کاشتکاروں کو دو دو سال تک پیمنٹ نہیں ملتی تھی مگر اب ہم

نے قانون بنایا کہ کسان کو ہر صورت 15 دن کے اندر اندر ادائیگی کرنا ہوگ لہذا اب ملز مالکان کسان کو نقد ادائیگیاں کرکے گنا خرید رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گندم کے کاشتکاروں کو 500 ارب اور مجموعی طور پر تمام فصلات پر کاشتکاروں کو 1100 ارب روپے اضافی ملے۔انہوں نے کہا کہ لارج سکیل مینو فیکچرنگ میں اضافہ ہورہا ہے، گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، ٹریکٹرز اور دیگر زرعی مشینری کی ریکارڈ سیل ہورہی ہے، آج پاورلومز کو تالے نہیں لگے، آج صنعت کا پہیہ پوری کپیسٹی کے ساتھ چل رہا ہے،آج ہم تیزی سے پائیدار گروتھ کی جانب گامزن ہیں اور پاکستان میں انڈسٹریلائزیشن عروج پر ہے۔

فرخ حبیب نے کہا کہ کورونا وبا نے قدرتی آفت کے 100سالہ ریکارڈ توڑدیئے مگر ہماری سمارٹ لاک ڈان پالیسی کو پوری دنیا میں سراہا گیا یہی وجہ ہے کہ ہمارے بہترین حفاظتی، تدارکی، احتیاطی اقدامات کے باعث آج ملک بھر میں دوکانیں، صنعتیں، کاروبار،سکول، کالج،یونیورسٹیاں کھلی اور حالات با لکل نارمل ہوچکے ہیں جس کے ساتھ ساتھ ہم 10 کروڑ لوگوں کی ویکسی نیشن بھی کرچکے ہیں اسی طرح ہمارے احساس پروگرام کو دنیا کے 3400 پروگرامز میں چوتھے نمبر پر آنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا ہے۔فرخ حبیب نے کہا کہ عمران خان کے 10 ارب درخت لگانے کی پوری دنیا تعریف کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق حکمران دنیا بھر میں منی لانڈرنگ، کرپشن اور لوٹ مار کے نام پر مشہور تھے اور دنیا بھر میں ان کی چوری پر کتابیں لکھی جارہی ہیں لیکن دوسری جانب برطانیہ کا وزیر اعظم اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر عمران خان کی تعریف کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نوجوانوں کے روزگار کیلئے 100 ارب کے قرضے دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو لندن، دوبئی یا پیرس میں محلات بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ ان کا جینا مرنا عوام کے ساتھ ہے لیکن سابق حکمرانوں نے یہاں سے پیسہ لوٹ کر باہر منتقل کیا، ان کے بچے باہر، ان کے کاروبار باہر،

ان کی جائیدادیں باہر لیکن عمران باہر سے کرکٹ میں پیسہ کما کر پاکستان لایا یہی وجہ ہے کہ وہ عوام کو بھی ان کا گھر دینا چاہتا ہے۔فرخ حبیب نے کہا کہ شریف خاندان اور راجکماری ووٹ کو عزت دو، ووٹ کو عزت دو کا پرچار کرتے نہیں تھکتی لیکن جس طرح گزشتہ روز انہوں نے گھر گھر جا کر 2،2 ہزار روپے میں ووٹ خرید کر غریب لوگوں کے ضمیر کے سودے کئے اور ووٹ کا تقدس پامال کیا وہ ووٹ کو عزت دینے کا دعوی کرنیوالوں کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ان خاندانوں کا خمیر دھاندلی سے اٹھا ہے اور یہ دھاندلی کے بغیر نہ جی سکتے ہیں

نہ ہی جیت سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ ای وی ایم کی ڈٹ کر مخالفت کررہے ہیں کیونکہ اس میں دھاندلی نہیں ہوسکے گی۔انہوں نے کہا کہ انشااللہ اب ہم ملک کے حالات ٹھیک کریں گے اور کرپٹ ٹولہ کے عزائم کو مزید کامیاب نہیں ہونے دیا جا ئے گا۔ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ حکومت کو کم آمدنی والے لوگوں کی مشکلات کا احساس ہے اسی لئے وزیراعظم نے ان کیلئے راشن پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت پنجاب میں 120 ارب روپے سے ابتدائی طور ایک کروڑ 20 لاکھ سے 2 کروڑ تک کم آمدن گھرانوں کو فی گھرانہ 1000 روپے ماہانہ سبسڈی پر اشیائے ضروریہ ملیں گی تاہم بعدازاں اس لمٹ اور گھرانوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ کردیا جا ئے گا اورمذکورہ احساس راشن پروگرام سے لوگ جلد ہی مستفید ہونا شروع ہو جائیں گے جس کا مقصدٹارگٹڈ سبسڈی کے ذریعے مہنگائی میں ریلیف دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں 3اشیائے خورونوش دالیں،تیل و گھی اور آٹے پر 30فیصد کی سبسڈی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم مستحق افراد اور کریانہ سٹور مالکان کی الگ الگ رجسٹریشن کر رہے ہیں اور 15 دسمبر سے لوگ اس سے مستفید ہونا شروع ہو جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ پچھلے دوسال سے تحریک انصاف حکومت اس پروگرام پر کام کر رہی تھی کیونکہ ہم پام آئل باہر سے درآمد کرتے ہیں اور اس وقت عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمتیں بڑھنا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں بارہ سو سے زائد پرائس مجسٹریٹس مارکیٹوں میں اشیا کی

قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں سرگرم ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت سابق ادوار کے قرضے واپس کرنے میں لگی ہوئی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وزیراعظم عمران خان نہ صرف جلد ملک کو بیرونی قرضوں کے شکنجے سے نجات دلا کر رہیں گے بلکہ وہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک بہتر اور مضبوط پاکستان بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں عوام کا خیال رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے لہذا حکومت اس سلسلہ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ فرخ حبیب نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر لوگوں کو ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کا سلسلہ تیز کیا جارہا ہے اور اگلے ماہ سے پنجاب کے تمام گھرانوں کو صحت انصاف کارڈ کی فراہمی شروع کردی جائے گی جس سے ہر

گھرانہ سال میں 10 لاکھ روپے تک اپنی پسند کے ڈاکٹر سے اپنی پسند کے ہسپتال میں علاج کر واسکے گا جبکہ کے پی کے اورساہیوال و ڈی جی خان ڈویژنز میں پہلے ہی تمام گھرانوں کو صحت انصاف کارڈ فراہم کئے جاچکے ہیں جس کے بعد دیگر صوبوں میں بھی اس پر عملدرآمد کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پوری دنیا میں اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام ہے کیونکہ دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ حکومت اپنے ہر گھرانے کو ایسا کارڈ جاری کرے جس پر 10 لاکھ روپے تک مفت علاج ہوسکے۔وزیر مملکت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ حکومت نے احساس پروگرام کے تحت 250 ارب روپے رکھے ہیں جس سے چھوٹے قرضے فراہم کئے جائیں گے تاکہ لوگ نہ صرف چھوٹے موٹے کاروبار کرکے باعزت روزگار کمانے کے قابل ہوسکیں بلکہ جو کم آمدن لوگ اپنا گھر بنانے کی سکت نہیں رکھتے اور کرایوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں وہ بھی اپنے گھر بنا سکیں نیز جن نوجوانوں کے پاس ہنر، صلاحیت، تعلیم،تجربہ اور اچھوتے آئیڈیاز ہیں مگر انہیں نوکریاں نہیں مل رہیں یا ان کے پاس اپنے تخیلات کو عملی شکل دینے کیلئے مالی وسائل نہیں وہ بھی قرضے لیکرنہ صرف اپنے کاروبا شروع بلکہ نوکری ڈھونڈھنے کی بجائے دوسروں کو نوکری دینے کے قابل ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح کامیاب جوان اور کامیاب پاکستان پروگرام بھی چل رہے ہیں جن کے انتہائی مفید نتائج حاصل ہورہے ہیں۔ فرخ حبیب نے کہا کہ سابق دور حکومت میں ماضی کے حکمرانوں نے ذاتی مفادات کیلئے بجلی کے مہنگے ترین سودے کئے جن کا خمیازہ عوام اور موجودہ حکومت کو بھگتنا پڑ رہا ہے اور ہم نے سال 2023 تک اس مد میں 1300 روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کرنا ہے اور یہ وہ رقم ہے کہ آئی پی پیز بجلی بنائیں یا نہ بنائیں ہم نے اس کی ادائیگی کرنی ہے یہی نہیں بلکہ سابق حکمرانوں نے اپنی جیبیں بھرنے کیلئے ضرورت سے زیادہ بجلی کے معاہدے تو کرلئے مگر ڈسٹری بیوشن سسٹم کو اپ گریڈ نہیں کیا لیکن اب ہم سسٹم کو اپ گریڈ کررہے ہیں اور ساتھ ہی 10 بڑے ڈیم بھی بنارہے ہیں جس سے عوام کو سستی اور کلین بجلی ملے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا ان تمام چیزوں پر فوکس ہے اوروہ دن رات اس کیلئے کام کررہے ہیں کیونکہ یہی ان کا ویژن ہے۔فرخ حبیب نے کہا کہ چونکہ پوری دنیا مہنگائی کی زد میں ہے اور ہر جگہ اشیائے خوردونوش کی طلب و رسد میں فرق اور کورونا و ڈالر کی قیمت میں اضافہ کے باعث اشیائے ضروریہ اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن پھر بھی ہم اپنے تمام ممکن وسائل بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کیلئے اقدامات کررہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کو ہر ہر لمحہ عوام کی بہت زیادہ فکر ہے اسلئے جونہی عالمی سطح پر پٹرول اور دیگر اشیا کی قیمتیں کم ہوں گی ہم بھی فوری عوام کو ریلیف دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ غریب اور کم آمدنی والے افراد کو اپنی زمین، اپنی چھت، اپنا گھر دینے کیلئے ملکی تاریخ میں پہلی بار قرضے دیئے جارہے ہیں اور اب تک 90 ارب روپے کے قرضے منظور جس میں 25 ارب روپے تقسیم بھی ہوچکے ہیں تاکہ غریب افراد 3 مرلہ،5 مرلہ،7 مرلہ کے ذاتی مکانات بنا کر جو 10 سے 15 ہزار ماہانہ کرایہ دیتے تھے وہ مکان کی تعمیر کے بعد 15 سے 20 سالوں میں اقساط ادا کردیں اس دوران ان کے مکان کی قیمت بھی بڑھتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کیلئے وقتی مشکلات ضرور ہیں لیکن اب کرپشن کو پروان چڑھانے والوں کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غروب ہوچکا ہے۔علاقائی ترقی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سردارعثمان بزدارکے اعلان کردہ 13 ارب روپے کے پیکیج سے فیصل آباد کی تمام ٹوٹی پھوٹی سڑکیں بنیں گی جن پر گزشتہ 15سالوں میں توجہ نہ دی گئی تھی جبکہ ان سڑکیں کے بننے سے نہ صرف شہریوں کوبہترین سفری سہولیات دستیاب آسکیں گی بلکہ ان روڈز پر کاروباری و تجارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد لوگوں کو ان کے گھروں کی دہلیز کے قریب ترین تمام ممکن بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے۔انہوں نے کہا کہ حلقہ میں شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کیلئے 10 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جس سے تمام محلوں اور یونین کونسلز میں پلانٹس کی تنصیب جاری ہے نیز اس منصوبہ کے تحت عنقریب باقی رہ جانیوالی کالونیوں میں بھی واٹر فلٹریشن پلانٹ نصب کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت صحت کی سہولیات کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہر یونین کونسل کی سطح پر نئی ڈسپنسریا ں بنائی جارہی ہیں اورجہاں پہلے سے موجود ڈسپنسریاں خستہ حالت میں ہیں ان کی رینوویشن اور ازسر نو تعمیر و مرمت کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔انہوں نے کہا کہ 5 کروڑ روپے کی لاگت سے ان ڈسپنسریز کو اپ گریڈ بھی کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام الناس کو صحتمند تفریح کی سہولیات بہم پہنچانے کیلئے پارکس کی حالت بھی بہتر بنائی جارہی ہے اور بوسیدہ پارکس کی تعمیر و مرمت اور تزئین و آرائش کا عمل تیزی سے جاری ہے نیز جہاں پارکس نہ ہیں وہاں نئے پارکس بھی قائم کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حلقہ کو جلد ملک کا مثالی حلقہ بنادیا جا ئے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں