یکم دسمبرسے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ یقینی ہوگیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )یکم دسمبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ یقینی ہو گیا۔جیو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں پٹرول مہنگا ہونے کے باوجود نایاب رہا جس کی وجہ پٹرولیم ڈیلرز کی منافع میں اضافے کی ہڑتال تھی۔حکومت نے پچھلی بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا تھا۔لیکن موجودہ صورتحال کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ یکم دسمبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ یقینی نظر آ رہا ہے۔یکم دسمبر سے پٹرول کی قیمت بڑھنے کی بنیادی وجوہات فی لٹر پٹرول پر 4 روپے پٹرولیم لیوی، ڈیلرز کے منافع کی شرح میں اضافہ اور پھر عالمی

مارکیٹ میں تیل کی قیمت بڑھنے کا اثر ہوں گی۔مشیر خزانہ شوکت عزیز نے 22 نومبر کو اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے سے مذاکرات طے پا گئے ہیں۔پٹرولیم لیوی ہر ماہ 4 روپے بڑھانی ہے۔شوکت ترین نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں ہم اپنے موقف پر کھڑے رہے۔پٹرولیم لیوی 10 ارب روپے کرنے کا کہا تھا وہ تو ہم نہیں کر سکیں گے۔پٹرولیم لیوی ہر ماہ 4 روپے بڑھانی ہے اور پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی 30 روپے تک لے کر جانی ہے۔بس اب دیکھنا ہے کہ یکم دسمبر کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کتنا ہوتا ہے۔دوسری جانب ق پٹرول پمپس کی بندش کی وجہ سے پریشانی کا شکار شہریوں کو خوشخبری سنا دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور پٹرولیم ڈویژن کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں۔حکومت کیساتھ معاملات طےپانے کے بعد پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ملک گیر ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے فوری بعد ملک بھر کے پٹرول پمپس کھلنا شروع ہو گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور پٹرولیم ڈویژن کے مابین مذاکرات کے بعد پٹرولیم ڈویژن ‏نے فی لیٹر پیٹرول پر مارجن میں99 پیسے اضافے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں