عدلیہ کل بھی آزاد تھی اور عدلیہ آج بھی آزاد ہے، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ جعلی آڈیو جاری کرنے جیسے ہتھکنڈے ماضی میں بھی استعمال ہوتے رہے ہیں۔ نجی ٹی وی چینل سماء نیوز سے خصوصی گفتگو میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آڈیو میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور میرا منصب مجھے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ ثاقب نثار نے کہا کہ عدلیہ کل بھی آزاد تھی اور عدلیہ آج بھی آزاد ہے۔جعلی آڈیو عدلیہ کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن ایسے ہتھکنڈوں سے اپنے کیسز میں ریلیف حاصل کرنا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ ن نے جعلی آڈیو جاری کی اور پھر خفت مٹانے کےلیے نیوز کانفرنس کی۔

ماضی میں بھی یہ ایسے ہی حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ غلط ہوا۔واضح رہے کہ چیف جسٹس (ر) ثاقب نثار سے منسوب ایک آڈیو کلپ سامنے آئی جس میں وہ مبینہ طور پر کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کی جگہ بنانے کے لیے نواز شریف کو سزا دینی ہوگی۔مبینہ آڈیو ٹیپ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی جس میں مبینہ طور پر چیف جسٹس (ر) ثاقب نثار نے کہا کہ عمران خان کی جگہ بنانے کیلئے نواز شریف کو سزا دینی ہو گی، مریم نواز کو بھی سزا دینی ہو گی۔مبینہ آڈیو کلپ میں وہ مبینہ طور پر تسلیم کر رہے ہیں کہ مریم نواز کو بھی سزا دینی ہو گی اگرچہ مریم نواز کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی مبینہ آڈیو کلپ کو ن لیگ کے رہنماؤں نے اپنی جیت اورعدل کے لیے امتحان قرار دیا ۔جبکہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود سے منسوب مبینہ آڈیو کو جعلی قرار دے دیا تھا۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا مبینہ آڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں نے ابھی یہ آڈیو سنی ہے، یہ آڈیو جعلی ہے جسے مجھ سے منسوب کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی چیزیں بناکرلائی جارہی ہیں،یہ آواز میری نہیں ہے۔ جسٹس (ر) ثاقب نثار نے کہا کہ یہ فیبریکیٹڈ آڈیو مجھ سے منسوب کی گئی ہے۔ اس طرح کی چیزیں بنا کر لائی جارہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں