نواز شریف جیل جاسکتے ہیں تو ثاقب نثار کیوں نہیں، بیان دینے پر لیگی رہنما مشکل میں پڑ گئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور نائب صدر ن لیگ مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ شاہد خاقان عباسی نے کہا نواز شریف جیل جاسکتے ہیں تو ثاقب نثار کیوں نہیں۔دونوں رہنماؤں نے عدلیہ کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں لیگی رہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خاتون وکیل کلثوم خالق کی جانب سے دائر کی گئی۔درخواست گزار نے کہا کہ مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی توہین عدالت کے مرتکب قرار پائے ہیں۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف بات کرکے عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے کی کوشش کی گئی۔لہذا توہین عدالت کرنے پر دونوں کو سزا دی جائے۔خاتون وکیل کی جانب سے عدالت سے شاہد خاقان اور مریم نواز کے خلاف کارروائی کرنے کی استدعا کی گئی۔جبکہ گذشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کا فرانزک کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس (ر) ثاقب نثار نے حکم کس کو دیا کچھ معلوم نہیں، آپ فرانزک کروائیں لیکن ہمیں انصاف چاہیے۔ثاقب نثار نے نوازشریف، مریم نوازکو سزائیں دلوائیں،کم ازکم اب تو سزا ختم کردیں۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ آواز سابق چیف جسٹس کی نہیں، اگرہم نے حلف نامہ یا آڈیوبنائی ہے توبالکل سزا دیں، اگرحلف نامے میں کی گئی بات درست ہے تو ثاقب نثارکوسزا دیں، اگرغلط ہے تو رانا شمیم کوسزا دیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنا رشتہ آڈیو سے قائم کرنا چاہتی ہے، آڈیو میں ملک کا اس وقت کا چیف جسٹس کہہ رہا کہ انہیں حکم ہے کہ نواز شریف،مریم نواز کوسزا دینی ہے، سابق چیف جسٹس نے حکم کس کو دیا کچھ معلوم نہیں، آپ فرانزک کروائیں لیکن ہمیں انصاف چاہیے ، اب انصاف کے لیے کس کے پاس جاؤں گا ایک حکم اور سازش کے تحت نواز شریف اور مریم نواز کو سزا دلوائی گئی حکومت فرانزک سمیت جو مرضی کروا لیحقیقت یہی ہے کہ آواز سابق چیف جسٹس کی ہے ثاقب نثار کو بلا کر پوچھا جائے کہ انہوں نے یہ بات کی ہے یا نہیں حکومت کے وزیر اور کراے کے ترجمان پریس کانفرنس کرتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں