امید ہے عدالتیں توہین آمیز مہم کو منطقی انجام تک پہنچائیں گی،فواد چوہدری

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ امید ہے کہ عدالتیں توہین آمیز مہم کو منطقی انجام تک پہنچائیں گی،لگتا ہے ججز کیخلاف مہم کی تیاری ذرا جلدی میں کی گئی، مذموم مہم کے پیچھے سارے کردار سامنے ہیں۔انہوں نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ لگتا ہے ججوں کے خلاف مہم کی تیاری ذرا جلدی میں کی گئی، اس مذموم مہم کے پیچھے سارے کردار سامنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امید ہے اس معاملے میں عدالتیں نرم رویہ اختیار نہیں کریں گی اور اس توہین آمیز مہم کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ فواد چودھری نے اپنے ایک اور بیان میں کہا کہ

مریم نواز کی طرف سے سولہویں التواء کی درخواست کی گئی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ دوسری طرف عدالتوں اور افواج پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈے مہم جاری و ساری سیسیلین مافیا نہیں تو اور یہ لوگ کیا ہیں۔مزید برآں وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری نے پیرمہرعلی شاہ بارانی یونیورسٹی میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مستقبل طلباء اور یونیورسٹیوں کے ہاتھ میں ہے، طلباء اور یونیورسٹیاں ہی ملک کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں نے آئی ٹی میں انقلاب برپا کیا، واٹس ایپ، یاہو، فیس بک اور ایمازون کے بانی بھی نوجوان تھے، امریکہ کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی نے تین بلین ڈالر کی اکانومی کھڑی کی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز ملکی ترقی میں حصہ لینے کے لئے اپنے اہداف مقرر کریں۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت صرف ایک یونیورسٹی تھی، اب 200 یونیورسٹیاں موجود ہیں، ملتان، فیصل آباد، ٹنڈو آدم، لسبیلہ سمیت راولپنڈی میں قائم زرعی یونیورسٹیاں شاندار کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں اور نجی کاروباری اداروں میں رابطہ ہونا چاہئے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ بڑی تعداد میں طلبائ و طالبات زرعی یونیورسٹیوں میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلباء نے ملک کی معاشی ترقی میں حصہ لینا ہے۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ پاکستان زرعی برآمدات کا ایک بڑا سورس بن سکتا ہے، جدید زراعت میں بہت سے مواقع ہیں، طلباء کو ان مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ اس مقصد کے لئے طلباء اپنی کمپنیاں

تشکیل دیں جو کسانوں کو لائیو سٹاک سمیت سمارٹ فارمنگ میں مدد فراہم کر سکیں۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان میں کووڈ کا پہلا کیس جب سامنے آیا تو اس وقت ہم کووڈ سے متعلق کوئی چیز تیار نہیں کر رہے تھے۔ ماسک، وینٹی لیٹرز اور کووڈ کی حفاظتی کٹس درآمد کی جا رہی تھیں، ہمارے ہاں سینی ٹائرز کی کمی ہوئی چونکہ ہم ایتھانول برآمد کرتے تھے اس لئے ہم نے ڈریپ کی ایتھانول پر پابندیاں ختم کروائیں اور صرف سات ماہ کے مختصر عرصے میں پاکستان نے کووڈ سے متعلق سامان مقامی سطح پر تیار کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو دنیا میں منفرد مقام حاصل ہے، دنیا کی 63 فیصد آبادی اسلام آباد سے صرف تین گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ انہوں نے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ یونیورسٹی کے نصاب کے ساتھ ساتھ دنیا میں ہونے والی جدید ریسرچ کا بھی مطالعہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں