لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے پشاور کور کی کمانڈ سنبھال لی

پشاور(نیوز ڈیسک)لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے پشاور کور کی کمانڈ سنبھال لی۔ تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ کمانڈ تبدیلی کی تقریب کور ہیڈ کوارٹر پشاور میں ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے کمان نئے کور کمانڈر پشاور کے حوالے کی۔خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے 18 نومبر کو وزیراعظم عمران خان سے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کی الوداعی ملاقات ہوئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے جنرل فیض حمید کی پیش وارانہ خدمات کو سراہا۔ وزیراعظم نے جنرل فیض حمید کی بطور

کور کمانڈر پشاور تعیناتی پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس سے قبل ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے وزارتِ خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کیساتھ الوداعی ملاقات کی جس میں وزیر خارجہ نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا، وزیر خارجہ نے ان کی نئی تعیناتی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔جب کہ 17 نومبر کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹنٹ جنرل فیض حمید کی الوداعی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران صدر مملکت نے ملکی سیکورٹی کیلئے بطور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹنٹ جنرل فیض حمید کی خدمات کو سراہا۔صدر نے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کیلئے پشاور کور کمانڈر کے نئے عہدے پر نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ یاد رہے کہ فیض حمید کو سال 2019ء میں انٹرسروسز انٹیلی جنس( آئی ایس آ ئی) کا ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا گیا تھا۔16 جون 2019ء کو فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ملک کے اہم ترین خفیہ ادارے انٹرسروسز انٹیلیجنس ایجنسی یعنی آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا۔ گذشتہ ماہ چھ اکتوبر کو پاک فوج میں معمول کے تقرر و تبادلے ہوئے، ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور تعینات کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کو کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات کر دیا گیا۔ 26 اکتوبر2021ء کو وزیراعظم عمران خان نے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی تقرری کی منظوری دی جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جار ی کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں