عاصمہ جہانگیر کانفرنس، نوازشریف کے خطاب کے دوران تمام تاریں کاٹ دی گئیں

لاہور (نیوز ڈیسک) سابق وزیراعظم نوازشریف کے تیسری عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں خطاب کے دوران مارکی کی تمام تاریں کاٹ دی گئیں۔جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق نوازشریف شریف دو روزہ کانفرنس کے اختتامی سیشن میں حاضرین سے خطاب کرنے والے تھے کہ تمام تاریں کاٹ دی گئیں۔اجلاس سے قبل دو گھنٹے تک انٹرنیٹ بلاک کر دیا گیا۔تقریب کی آرگنائزر منیزے جہانگیر نے کہا کہ وہ تقریر سے منسلک ہونے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن مارکی پر تاریں کاٹ دی گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چوہے ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔ہم اظہارِ رائے کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔

اسی لیے بلا تفریق پلیٹ فارم سب کے لیے کھلا ہے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے اعلان کیا کہ مارکی کی تمام تاریں کاٹ دی گئی ہیں اور یہ ایسی چیز نہیں ہے جسے جلد ٹھیک کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تمام زنجیریں توڑ کر جمہوریت کے لیے کام کرنا ہو گا۔صرف عہدے قبول نہ کریں،نظام بدلنے کی بات کریں۔انٹرنیٹ فراہم کرنے والے کو کانفرنس کے اختتام سے دو گھنٹے قبل منتظمین کو انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے سے روک دیا گیا جب نوازشریف کی تقریر شروع ہونا تھی۔جبکہ بلوچستان بار کونسل کے جاری ایک بیان میں ترقی پسند روشن خیال رہنما سپریم کورٹ بار کے سابق صدر عاصمہ جہانگیر کو ان کی برسی کے موقع پر انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحومہ عاصمہ جہانگیر مزدوروں محنت کشوں محکوم قوموں کے توانا آواز تھے مرحومہ نے ہمیشہ ملک کے اندر آئین و قانون کی بالادستی جمہوریت کے بحالی کیلئے جدوجہد کی وہ دنیا بھر کے ہر ظلم و جبر ناانصافیوں انسان حقوق کے پامالیوں خلاف آواز بلند کرتی تھی بیان میں کہا کہ مرحومہ نے ہر مارشلء آمریت کے خلاف جدوجہد کی انہوں نے بحالی جمہوریت تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بیان میں کہا کہ مرحومہ نے آئین کی بحالی اور عدلیہ بحالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں