حکومت کے اپنے ہی وزراء اور اٹارنی جنرل نے وزیراعظم کو بڑا جھٹکا دیدیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف حکومت کے اپنے ہی وزراء اور اٹارنی جنرل کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے باعث انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی منظوری مؤخر کردی گئی ۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد اٹارنی جنرل آف پاکستان اور بعض حکومتی وزراء کی جانب سے چند مخصوص تبدیلیوں پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد ان کے تحفظات سے وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کیا گیا تو انہوں نے ترامیم کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ۔رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے اس معاملے پر موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں

نے تجویز دی تھی کہ تحفظات دُور ہونے تک ترامیم کو پارلیمنٹ میں نہ لایا جائے تاہم الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) اور آئی ووٹنگ کے حوالے سے ترامیم پر مشتمل دُوسرا بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور ہوگیا جب کہ الیکشن ایکٹ میں پہلے ہی یہ طے ہے کہ الیکشن کمیشن مذکورہ دو امور میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کرے گا ۔اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ آئندہ کس عام انتخابات میں ای وی ایم کو استعمال کیا جائے گا اس حوالے سے پارلیمنٹ نے ابھی کچھ طے نہیں کیا تاہم اگر اپوزیشن کی جانب سے آئی ووٹنگ اور ای وی ایم کو چیلنج کیا گیا تو اعلیٰ عدالتوں میں حکومت ان کا دفاع کرے گی۔ یاد رہے کہ چند روز قبل پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا تھا ، جس میں پارلمنٹ نے انتخابی اصلاحات دوسرا ترمیمی بل 2021ء منظور کر لیا ، مشیرِ پارلیمانی امور بابر اعوان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر رائے شماری کے لیے ترمیمی بل ایوان اور الیکشن ایکٹ دوسرا ترمیمی بل منظوری کے لیے پیش کیا ، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل منظور کر لیا ، اوور سیز پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹنگ کا حق اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کا بل بھی منظور کر لیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں