اتنے اہم اجلاس میں آپ اپنے دوست کو نہیں لائے، غفور حیدری کا آرمی چیف سے سوال

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔وزیراعظم عمران خان کی اجلاس سے غیر حاضری پر اپوزیشن نے تنقید کی۔اپوزیشن نے وزیراعظم کی عدم موجودگی پر بھی سوال اٹھائے۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ ہمیں چور ڈاکو کہنے والے خود سیکیورٹی صورتحال سے متعلق اتنے اہم اجلاس میں غیر حاضر ہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے زیادہ تر سوالات کے جوابات بھی خود دئیے۔24 نیوز کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والی میٹنگ میں آرمی چیف اور پارلیمنٹیرینز کے مابین ہلکی پھلکی گفتگو بھی ہوئی۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما عبدالغفور حیدری نے آرمی چیف سے سوال کیا کہ آپ اس اہم اجلاس میں پارلیمانی رہنماؤں کو بریف کرنے آپ آئے ہیں لیکن اپنے دوست کو ساتھ نہیں لائے۔جس پر آرمی چیف نے کہا کہ عمران خان میرے باس ہیں ،دوست نہیں۔جب کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرشہباز شریف نے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں بڑی اچھی پریزنٹیشن تھی، سوالوں کے جواب اچھے طریقے سے دئیے گئے۔ صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے شہبازشریف نے اجلاس سے متعلق سوال پر کہا بریفنگ کا اختتام اچھے طریقہ سے ہوا۔شہباز شریف نے ٹی ایل پی اور ٹی ٹی پی کے حوالے سے سوال کا نوکمنٹس میں جواب دیا ۔ انہوں نے کہا ان کیمرا بریفنگ تھی، بریفنگ بڑی اچھی تھی اور اچھی پریزنٹیشن تھی۔واضح رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرصدارت آج قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں اعلیٰ عسکری حکام نے ملک کی سیاسی اور پارلیمانی قیادت کو بریفنگ دی، قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا، قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں کالعدم جماعت سے پابندی ہٹانے کے معاہدے اور کالعدم دہشتگرد تنظیم سے مذاکرات کا معاملہ بھی زیربحث آیا، اجلاس ساڑھے پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔اعلامیہ اجلاس کے مطابق اجلاس میں خطے میں وقوع پذیر تبدیلیوں، مسئلہ کشمیر اور پاک افغان سرحد پر بارڈر کنٹرول نظام بارے بریفنگ دی گئی۔ سیاسی و پارلیمانی قیادت نے اعلیٰ عسکری بریفنگ پر اطمینان

کا اظہار کیا، بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان افغانستان کے معاملے پر عالمی برادری سے مسلسل رابطے میں ہے، پاکستان افغانستان میں امن کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، پاکستان برادر افغان عوام کی حمایت اور تائید جاری رکھے گا، افغانستان میں پائیدار امن واستحکام خطے کی ترقی و خوشحالی کیلئے ضروری ہے۔ امید ہے افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی۔ اجلاس کے بعد وزیرداخلہ شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں زبردست ماحول تھا، ایسے اجلاس ہوتے رہنے چاہئیں، لمبے سوال جواب اور

کھل کر ساری باتیں ہوئیں، اجلاس ان کیمرا تھا اور اچھے ماحول میں ہوا، زیادہ ترکالعدم دہشتگرد تنظیم اور افغان صورتحا ل پر بات ہوئی، اجلاس سے متعلق سوال کیا گیا کہ کالعدم دہشتگرد تنظیم سے متعلق کوئی فیصلہ ہوا ؟ جس پر شیخ رشید نے جواب دیا اجلاس میں کالعدم دہشتگرد تنظیم سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا، اجلاس میں فضل الرحمان کے بیٹے نے اچھی باتیں کیں شاہ محمود قریشی نے بھی بات کی۔ٹی ایل پی پر پابندی کل ہی اٹھائی تھی۔ مزید برآں پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ایم کیوایم کے سینئر مرکزی رہنماء خالد مقبول صدیقی نے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ

کردیا ہے، خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مذہبی جماعت ٹی ایل پی کو کالعدم جماعت کی فہرست سے نکال کربحال ہوسکتی ہے تو ہمارا کیا قصور ہے؟ ایم کیوایم دفاترز کھولنے کا مطالبہ کرتی رہی لیکن دفاترز نہیں کھولے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس والوں کو شہید کرنا دہشتگردی ہے تالیاں بجانا دہشتگردی نہیں،خالد مقبول صدیقی کی جانب سے کارکنوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ خالد مقبول صدیقی سے سوال کیا گیا کہ آج وزیراعظم کیوں نہیں آئے؟جس پر خالد مقبوصدیقی نے جواب دیا کہ یہ تو وزیراعظم سے ہی پوچھنا پڑے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں