کراچی کے نجی اسکولز میں کیمروں کا انکشاف،بچے اور والدین پریشانی میں مبتلا

کراچی کے نجی اسکولز میں کیمروں کا انکشاف،بچے اور والدین پریشانی میں مبتلا،اسکول بند کرنے کی مخالفت کردی
کراچی (نیوز ڈیسک)کراچی کے نجی اسکول میں واش رومز میں کیمرے نصب ہونے کے معاملے نے طلبا اور ان کے والدین کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے نجی اسکول میں خواتین اساتذہ اور طالبات کے زیرِ استعمال واش رومز میں نصب خفیہ کیمروں کا معاملہ سامنے آنے کے بعد انتظامیہ نے اسکول بند کر دیا تھا جس کے سبب وہاں زیر تعلیم بچے اور ان کے والدین پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔کراچی کے علاقہ صفورہ گوٹھ میں نجی

اسکول سیل ہونے سے والدین اور بچے پریشان ہیں۔ والدین نے کہا کہ واش رومز میں اگر کیمرے لگے تھے تو نکال کر اسکول کو بند نہیں کرنا چاہئیے تھا، اسکول بند ہونے کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی کا حرج ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ کراچی کے نجی اسکول میں خواتین کے باتھ روم میں خفیہ کیمروں کا انکشاف ہوا۔سندھ کے محکمہ تعلیم کے حکام نے بھی اس حوالے سے تصدیق کی اور بتایا کہ ان خفیہ کیمروں کی مدد سے نجی اسکول کی خواتین کی ویڈیوز بنائی جاتی تھیں۔خفیہ کیمروں کے انکشاف کے بعد متعدد خواتین نے محکمہ تعلیم کو اپنی شکایات درج کروائیں۔ جس کے بعد محکمہ تعلیم سندھ کی ایک ٹیم نے مذکورہ اسکول کا دورہ کیا اور خواتین کے باتھ روم میں کیمروں کی جگہ کا جائزہ لیا۔ اس دورے کے دوران محکمہ تعلیم سندھ کی ٹیم نے خفیہ کیمرے برآمد کیے۔ بعد ازاں ویجی لینس ٹیم نے کیمروں کی برآمدگی کے حوالے سے رپورٹ مرتب کر کے محکمہ سندھ کو ارسال کر دی ۔نجی اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کیمرے واش روم کے بیسن ایریا میں لگائے گئے تھے۔کیمرے لگانے کا مقصد لڑکوں اور لڑکیوں کے واش روم الگ رہیں۔اسکول انتظامیہ نے مزید کہا کہ کیمرے لگانے کا مقصد تھا کہ لڑکے یا لڑکیاں ایک دوسرے کے واش روم میں نہ جائیں۔اسکول انتظامیہ کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اسکول میں کوئی چیز خفیہ نہیں، سب کچھ ریکارڈ پر ہے، کیمرے ٹوائلٹس میں نہیں واش بیسن والے ایریا میں لگے ہوئے تھے۔ بچے، اساتذہ اور پورا اسٹاف ہی واش بیسن کے قریب لگے کیمروں سے آگاہ ہے۔کیمرے آج سے نہیں گزشتہ 15 سال سے لگے ہوئے ہیں، جن کا مقصد بہتر مانیٹرنگ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں