فردوس عاشق اعوان کا ڈسکہ الیکشن کی تحقیقاتی رپورٹ کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

لاہور(نیوز ڈیسک) سابق معاون خصوصی اطلاعات پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ڈسکہ الیکشن کی تحقیقاتی رپورٹ کو عدالت میں چیلنج کروں گی،رپورٹ میں میری ذات سے متعلق غلط باتیں شامل کی گئیں،میری اے سی آفس میں کوئی میٹنگ نہیں ہوئی،انتخابی مہم کی ذمہ داری میری نہیں دیگر لوگوں کی تھی۔ انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈسکہ الیکشن کی تحقیقاتی رپورٹ کو عدالت میں چیلنج کروں گی،رپورٹ میں میری ذات سے متعلق غلط باتیں شامل کی گئیں،اے سی آفس میں صرف میری موجودگی کا لکھا گیا، میری اے سی آفس میں کوئی میٹنگ نہیں ہوئی،

رپورٹ میں کہاں لکھا کہ الیکشن میں مس کنڈکٹ کیا؟ انتخابی مہم کی ذمہ داری میری نہیں دیگر لوگوں کی لگائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ سے متعلق سرکاری بیان حکومت پنجاب دے گی،وزیراعظم عمران خان نے کسی بھی غیرقانونی کام کا تحفظ نہیں کیا، ہم کسی سیاسی ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، رپورٹ میں اتھارٹی کا غلط استعمال ہوا تو اس کی مزید تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اس سے قبل فردوس عاشق اعوان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کیخلاف متعدد درخواستیں دیں، آراو صاحب کے خلاف درجنوں شکایات دی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ اپنے حوالے سے صرف یہ کہوں گی کہ رپورٹ کو حقائق سے ہٹ کر بیان کیا گیا، دھاندلی سے جڑا میرا کوئی قول وفعل رپورٹ میں نمایاں نہیں کیا گیا۔ فردوس عاشق نے کہا کہ حقائق سے کوسوں دور ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے، میڈیا کی طاقت پر یقین رکھتی ہوں۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن نے ڈسکہ الیکشن میں دھاندلی ثابت ہونے پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف کاروائی کا مطالبہ کردیا ہے، ترجمان مریم اورنگزیب نے ڈسکہ الیکشن کی تحقیقاتی رپورٹ پر الیکشن کمیشن سے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی پنجاب کیخلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران صاحب کو الیکشن قوانین کے مطابق سزا ملنی چاہئیے۔ واضح ہوگیا کہ عمران صاحب کی ایماء پر وزیراعلی پنجاب، وفاقی وزرا اور دیگر حکومتی رہنماؤں نے منظم انداز سے دھاندلی کے جرم کا ارتکاب کیا۔

ڈسکہ رپورٹ کی روشنی میں ماتحت عملے کے خلاف کاروائی پورا انصاف نہیں ہے۔ عمران صاحب اور وزیر اعلی پنجاب سمیت وفاقی اور صوبائی ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور سزائیں دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی حکم ماننے والوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ جنہوں نے یہ غیر قانونی حکم دیا، ان کے خلاف بھی کارروائی کرنے سے ہی انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں