غربت اور مہنگائی کے باوجود گز بھر لمبی زبان رکھنے والوں کو غریب کا کوئی درد نہیں،مریم نواز

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عوام سے پوچھو، وہ نوازشریف کا پاکستان چاہتے ہیں یا تمہارا غربت، مہنگائی اور دہشتگردی والا پاکستان؟ مہنگائی غربت کے باوجود گز بھر لمبی زبانیں انہیں کی نکل سکتی ہیں جنہیں غریب کا درد نہیں۔ انہوں نے غربت و مہنگائی پر اپنے ردعمل میں کہا کہ نااہل حکمران کا مسلط کردہ مہنگائی کا شدید عذاب، فاقہ کشی سے تنگ آئے لوگوں کی خودکشیاں، ہر شعبے میں خطے کا سب سے پسماندہ ملک بنا دینے کے بعد بھی اوپر سے نیچے تک جھوٹ کا کاروبار جاری ہے۔

جب حکمران کا دل عوام کی ہمدردی اور آنکھ حیا سے عاری ہو جائے آئے تو یہی ڈھٹائی دیکھنے میں آتی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ آدھی سے زیادہ آبادی غربت کے گڑھے میں داخل کر دینے کے بعد بھی گز بھر کی لمبی زبانیں انہیں کی نکل سکتی ہیں جو غریب کا درد نہیں جانتے۔ذرا پوچھو لوگوں سے کہ وہ 2017 والا نواز شریف کا پاکستان چاہتے ہیں یا تمہارا غربت، مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، دہشت گردی اور فاقہ کشی والا پاکستان؟ پی ڈی ایم اور مسلم لیگ ن عوام کے احساسات کی ترجمانی اور انکی تکالیف کا مداوا کرنا چاہتی ہے، آپ کی دکھ کی گھڑی میں آپ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتی ہے اور آپ کی آواز بننا چاہتی ہے۔ آپ کے خیال میں اس سلسلے میں ہمارا سب سے موثر اور انتہائی اقدام کیا ہونا چاہیے؟ دوسری جانب ذرائع کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے حکومت کیخلاف دسمبر میں لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کرلیا، پی ڈی ایم کے صدر اور امیر جےیوآئی ف مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا ورچوئل سربراہی اجلاس ہوا، اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف ، پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز، محمود اچکزئی، سردار اختر مینگل اور آفتاب شیرپاؤ شریک ہوئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ڈی ایم نے مہنگائی کیخلاف سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا ہے، صوبوں میں مہنگائی مارچ لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں ہوگا۔ صوبوں میں مہنگائی مارچ کے بعد احتجاجی تحریک کا اختتام لانگ مارچ پر ہوگا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت اور مہنگائی کیخلاف لانگ مارچ دسمبر میں کیا جائے گا، تاہم لانگ مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان اگلے اجلاس میں طے کیا جائے گا۔ پی ڈی ایم جماعتوں نے 10 نومبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے متعلق بھی حکمت عملی پر غور کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں