مالم جبہ اسکینڈل، نیب پرویز خٹک پر مہربان، انکوائری روک دی

پشاور (نیوز ڈیسک)احتساب عدالت نے مالم جبہ اسکینڈل میں پرویز خٹک کے خلاف انکوائری روکنے کی نیب درخواست منظور کرلی۔ تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو نے مالم جبہ اسکینڈل میں وزیر دفاع پرویز خٹک و دیگر کے خلاف انکوائری روک دی ۔ احتساب عدالت نے پرویز خٹک کے خلاف انکوائری روکنے کی نیب درخواست منظور کرلی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب نے وفاقی وزیر پرویزخٹک اور دیگر کے خلاف انکوائری کا آغاز کیا تھا، نیب مالم جبہ میں 275 ایکڑ فارسٹ لینڈ لیز پر دینے اورتوسیع دینے کے خلاف انکوائری کررہا تھا۔ مالم جبہ کیس میں ملزمان پر بنیادی طور

پر تین الزامات عائد کئے گئے تھے ، جن میں محکمہ جنگلات کی270 ایکڑ اراضی غیر قانونی طور پر لیز کا الزام عائد کیا گیا، لیز کی مدت کو 15 سے بڑھا کر 33 سال کرنے،جبکہ پراجیکٹ کا ٹھیکہ غیر قانونی بڈنگ کے راستے ایوارڈ کا الزام عائد کیا گیا۔نیب مالم جبہ میں 275 ایکڑ فارسٹ لینڈ لیز پر دینے اورتوسیع دینے کے خلاف انکوائری کررہا تھا۔ جس میں بے قاعدگیوں اور اقربا پروری کی شکایات سامنے آئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جنگلات کی اراضی غیر قانونی الاٹمنٹ کا معاملہ پشاور ہائی کورٹ نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو بھجوایا تھا ، ایڈیشنل چیف سیکریڑی کے پی کے کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ اراضی والی سوات نے وفاقی حکومت کے سپرد کی تھی۔رپورٹ کے مطابق لیز کو 15 سال سے بڑھا کر 33 سال کرنے کی منظوری وفاقی کابینہ کیجانب سے قانونی طور پر دی گئی تھی۔ یاد رہے کہ دو ماہ قبل مالم جبہ اراضی سکینڈل میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر اعلیٰ کے پی محمود خان کے خلاف نیب انکوائری بند کرنے کی مکمل دستاویزات منظر عام پر آ گئیں۔ تفصیلی جائزہ کے بعد معلوم ہوا کہ مذکورہ کیس میں حکومتی خزانے کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مبینہ غیر قانونی کنٹریکٹ ایوارڈ کے چند نکات پر تحقیقات کی ضرورت ہے جس کی بنیاد پر کیس چیف سیکرٹری کے پی کے کو بھجوایا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں