موٹروے واقعہ،15افراد کے ڈی این اے میچ نہیں ہوسکے

لاہور (نیوز ڈیسک) موٹروے پر خاتون زیادتی کیس میں15 افراد کے ڈی این اے میچ نہیں ہوسکے، حکومت پنجاب نے کرول گھاٹی کے تمام رہائشیوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کیلئے کرول گھاٹی کے قریب فیلڈ ہسپتال قائم کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے موٹروے پر خاتون سے زیادتی کیس کے واقعے کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لینے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی وزراء اور قانون ماہرین کا کہنا ہے کہ خاتون سے زیادتی اور تشدد کرنے والے ملزمان کسی بھی صورت بچ نہیں سکیں گے۔ جیو فینسنگ کیلئے موبائل کمپنیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جائے گا۔

اس طرح کے واقعات سے بچنے کیلئے پنجاب پولیس نے موٹروے کی سکیورٹی بھی سنبھال لی ہے۔ خاتون سے زیادتی کے ملزمان کو گرفتار کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب سے لے کر تمام حکومتی مشینری حرکت میں آچکی ہے۔لیکن تاحال ملزمان گرفتار نہیں کی جاچکے۔ حکومت نے جہاں خاتون سے زیادتی کا واقعہ پیش آیا ، وہاں پر موجود دیہاتیوں کے ڈی این اے ٹیسٹ اور خفیہ اطلاعات بھی اکٹھا کرنا شروع کردی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب نے کرول گھاٹی کے رہائشیوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے کیلئے کرول گھاٹی کے قریب فیلڈ ہسپتال قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ جہاں پر رہائشیوں کے ڈی این اے اکٹھے کیے جائیں گے۔بتایا گیا ہے کہ ابھی تک جتنے ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ آئی ہے اسکے تحت15 افراد کے ڈی این اے میچ نہیں ہوسکے۔خیال رہے زیادتی کا واقعہ گجرپورہ رنگ روڈ پر پیش آیا تھا۔ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ گاڑی پر لاہور سے گوجرانوالہ جا رہی تھی کہ راستے میں پٹرول ختم ہونے پر گاڑی رنگ روڈ پر رو ک لی۔ خاتون پریشانی میں گاڑی سے باہر نکلی اور مدد کیلئے فون کرنے میں مصروف تھی کہ 2 ڈاکو پہنچ گئے۔ڈاکوؤں نے خاتون پر تشدد کیا اور پھر زبردستی قریبی کرول جنگل میں لے گئے اور بچوں کے سامنے خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ڈاکو ایک لاکھ روپے نقدی، طلائی زیورات ودیگر اشیا بھی لوٹ کر فرار ہو گئے۔ پولیس تھانہ گجرپورہ نے 2 نامعلوم ملزموں کیخلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ادھر پولیس کی جانب سے ملزمان کو تلاش کرنے کی سر توڑ کوششیں جاری ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ کے اطراف میں موجود کارخانوں اور فیکٹری ملازمین کے کوائف اکھٹے کرنا شروع کر دیئے ہیں، کیمروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔واقعہ کی تحقیقات میں روایتی اور جدید

دونوں طریقہ تفتیش کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ کھوجیوں کی مدد سے جائے وقوعہ کے اطراف 5 کلومیٹر کا علاقہ چیک کر کے مشتبہ پوائنٹس مارک کر لئے گئے۔آئی جی پنجاب کی تشکیل کردہ اعلیٰ سطح سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تفتیش کے معاملات کے ہر پہلو کو باریک بینی سے دیکھ رہی ہے۔ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان سے ملتے جلتے حلیہ جات کے حامل مشتبہ افراد کی پروفائلنگ کی گئی ہے۔تین مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کیلئے موبائل کمپنیوں کے حاصل کردہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ لوکل کیمرہ جات سے مشتبہ افراد کو ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کرکے شناخت کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.