ایف آئی اے جہانگیر ترین اور ان کے صاحبزادے پر مہربان ، بڑا ریلیف دیدیا

لاہور (نیوزڈیسک) وفاقی تحقیقاتی ادارے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے کیسز میں منی ٹریل سے متعلق شواہد تلاش کررہی ہے تاہم ادارے نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ وزارت داخلہ سے دونوں کا نام نو فلائی لسٹ میں شامل کرنے کی درخواست نہیں کرے گی ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین کو چینی اسکینڈل کے 3 مقدمات میں 5 ارب روپے کی منی لانڈرنگ اور دھوکہ دہی کے الزامات کا سامنا ہے، ایف آئی اے نے ان کا اور ان کے بیٹے کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی کارروائی شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ذرائع کے مطابق چونکہ والد اور بیٹے دونوں کے ایف آئی آر

میں ذکر کردہ رقم پانچ ارب سے زائد کے اثاثے موجود ہیں اس لیے ادارہ حکومت سے ان کا نام نو فلائی لسٹ میں شامل کرنے کی درخواست کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ایف آئی اے دونوں کی مشکوک ٹرانزیکشن کے سلسلے میں منی ٹریل سے متعلق شواہد تلاش کررہا ہے، یہ شواہد ان دونوں رہنمائوںکے خلاف عدالت میں مقدمہ چلانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے نام نو فلائی لسٹ میں شامل ہیں جنہیں ایف آئی اے کے شوگر اسکینڈل میں 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ اور دھوکے کے الزامات کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں