وفاقی حکومت کا کالعدم ٹی ایل پی کے خلاف تمام مقدمات واپس لینے کا فیصلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت نے تحریک کیخلاف تمام مقدمات منگل یا بدھ تک واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ پریس کانفرنس کے دوران شیخ رشید نے کہا ہے کہ آٹھ گھنٹے تفصیلی مذاکرات ہوئے ہیں جس میں وفاقی و صوبائی وزرا انتظامیہ نے شرکت کی ۔ ہماری خواہش ہے کہ امن و امان کی صورتحال بہتر کی جائے۔ شیخ رشید نے بتایا کہ فرانس کے سفیر کا معاملہ قومی اسمبلی میں لے جائیں گے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ شیڈول فور کو بھی دیکھیں گے اور سعد رضوی سے بھی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم ایٹمی ملک ہے جس پر عالمی دباؤ ہے ۔

انہوں کہا ہے کہ وفاقی وزیرداخلہ ختم نبوت کا سپاہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزرا کوتحریک سے مذاکرات کی ہدایت کی تھی ۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پیر نورالحق قادری سے ٹیلفونک رابطہ کرکے موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیاتھا، اور تحریک کے احتجاج کے حوالے سے بات کی تھی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری اور وزیرداخلہ شیخ رشید کو لاہور پہنچنے کی ہدایت کی ۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ڈاکٹر پیر نور الحق قادری کراچی سے لاہور پہنچے اور وزیراعظم کی ہدایت پر حکومتی ٹیم نے لاہور میں تحریک سے مذاکرات کا فیصلہ کیا، وفاقی پیر نورالحق قادری نے موجودہ صورتحال کے حوالے سے علمائے کرام سے ٹیلفونک رابطے کئے ہیں، وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے پر یقین رکھتی ہے، عوام کی مال و جان کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کالعدم مذاکرات کے لئے لاہور پہنچے، وزیر داخلہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے خصوصی طیارے میں لاہور روانہ ہوئے تو ان کے ہمراہ وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور بھی تھے۔ دوسری جانب وزیر داخلہ شیخ رشید نے احتجاج سے نمٹنے کے لئے پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر سے پولیس فورس مانگ لی ہے۔ وزارت داخلہ نے پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹریوں کو اسلام آباد کی سیکورٹی کے لئے اینٹی رائٹ فورس دستے بھجوانے کے لئے مراسلے بھیج دیئے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر 10،10 ہزار نفری پر مشتمل پولیس دستے اسلام آباد بھیجیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں