گورنر اسٹیٹ بینک روپے کی قدر گرنے کے فوائد گنوانے لگے

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک )گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر گرنے سے اوور سیز پاکستانیوں کو فائدہ پہنچا ہے۔اس فائدے کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ کتنے لوگ مستفید ہوئے۔مانچسٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کے مقابلے میں عوام کی آمدن میں بھی اضافہ ہوا ہے۔آئی ایم ایف کی ڈیل سب کے سامنے آئے گی اور کوئی ایسی ڈیل نہیں کی جائے گی جس سے ملکی معیشت کو مزید نقصان ہو۔ڈالر کی قدر سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رضا باقر نے کہا کہ اوور سیز پاکستانیوں کو فائدہ پہنچا ہے۔اس فائدے کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ کتنے لوگ مستفید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی 27 میں سے 26 شرائط پوری کر دیں لہذا پاکستان جلد گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ پاکستان دیگر ممالک سے بھی سی پیک طرز کے معاہدے کر سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے مالی سال جی ڈی پی گروتھ تقریبا 4 فیصد رہی اور 4 فیصد رئیل جی ڈی پی کا مطلب ہے کہ مہنگائی کے مقابلے میں عوام کی آمدنی میں بھی چار فیصد اضافہ ہوا۔واضح رہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جاری کھاتے کو 3ارب 40کروڑ ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا، گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 86کروڑ50لاکھ ڈالر فاضل رہنے والا جاری کھاتہ بڑھتی ہوئی درآمدات کی وجہ سے شدید خسارے کی لپیٹ میں آگیا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق جاری کھاتے کو اگست میں ایک ارب 47کروڑ 30لاکھ ڈالر کے خسارے کے بعد ستمبر میں ایک ارب 11کروڑ30لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا، پہلی سہ ماہی کا مجموعی خسارہ 3ارب 40کروڑ ڈالر کی سطح پر آگیا۔ پہلی سہ ماہی کے دوران جاری کھاتے کو بڑھانے میں درآمدات کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے والے دباؤ نے اہم کردار ادا کیا، پہلی سہ ماہی کے دوران برآمدات 7ارب 24کروڑ ڈالر جبکہ درآمدات کی مالیت 17 ارب 47کروڑ ڈالر رہی، اس طرح پہلی سہ ماہی کا تجارتی خسارہ 10ارب 23کروڑ ڈالر رہا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں برآمدت 5ارب 35کروڑ ڈالر جبکہ درآمدات 10ارب 63کروڑ ڈالر رہی تھیں اور تجارتی خسارہ کی مالیت 5ارب 28کروڑڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں