موٹروے واقعہ، شیریں مزاری بھی چپ نہ رہیں ،سی سی پی او لاہور کو کھری کھری سنادیں

لاہور(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری سی سی پی او لاہور عمر شیخ پر برس پڑیں اور کہا کہ اجتماعی زیادتی کی شکار خاتون پر سوالات اٹھانا ناقابل قبول ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز گجر پورہ میں موٹر وے پر ایک المناک واقعہ پیش آیا جب درندہ صفت دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا،اس واقعے سے متعلق سی سی پی او لاہور کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا جہاں انھوں نے خاتون کے سفر سے متعلق ہی سوالات اٹھادیے۔

ان سوالات پر وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کا ردِ عمل سامنے آیا جہاں وہ سی سی پی او لاہور پر برس پڑیں،سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں شیریں مزاری نے کہا کہ ایک افسر کی طرف سے اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون پر سوالات اٹھانا ناقابلِ قبول ہے۔دوسری جانب پنجاب پولیس کی جانب سے موٹروے زیادتی کیس میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور 7 ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کرالیے گئے ہیں۔واقعے کی تحقیقات میں روایتی اور جدید دونوں طریقہ تفتیش کا استعمال کیا جارہا ہے اور آئی جی پنجاب کیس میں پیش رفت کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔کھوجیوں کی مدد سے جائے وقوعہ کے اطراف 5کلو میٹر کا علاقہ چیک کرکے مشتبہ مقامات نشان زد کر لئے گئے۔ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان سے ملتے جلتے حلیے کے حامل 15 مشتبہ افراد کی پروفائلنگ (کوائف) کی گئی ہے۔مختلف شواہد پر 7 مشتبہ افراد محمدکاشف، عابد، سلمان، عبدالرحمن، حیدر سلطان، ابوبکر، اصغر علی کو حراست میں لے کر ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گئے ہیں جن کی رپورٹس کا انتظار ہے۔تین مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کیلئے موبائل کمپنیوں کے حاصل کردہ ڈیٹاکا تجزیہ کیا جارہا ہے۔ لوکل کیمروں سے مشتبہ افراد کو ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کرکے شناخت کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.