موٹروے کیس میں بڑی پیشرفت ،کریمنل ریکارڈ کے حامل کتنے افراد کو شارٹ لسٹ کرلیا گیا

لاہور(نیوز ڈیسک) موٹر وے زیادتی کیس میں پولیس کی طرف سے کریمنل رکارڈ کے حامل 70افراد کو شارٹ لسٹ کرلیا گیا۔ایس ایس پی ذیشان اصغر نے بتایا ہے کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے مطابق تمام افراد جائے وقوعہ کے اطراف کے رہائشی ہیں، فرانزک اور ڈی این اے رپورٹس کے بعد کافی چیزیں واضح ہوچکی ہیں جبکہ اس چیز کے بھی شواہد ملے ہیں کہ ملزمان واردات کیلئے پیدل آئے اور پیدل ہی واپس گئے، کھوجی کی مدد سے ملزمان کے فٹ پرنٹس کی نشاندہی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ موٹروے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی

زیادتی کے دلخراش واقعےمیں متاثرہ خاتون کو اس کے کم سن بچوں کے سامنے گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا گیا، بدترین تشدد کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔تفصیلات کے مطابق لاہور، اسلام آباد موٹروے پر گجرپورہ کے علاقے میں پیش آنے والے دلخراش واقعے کی تفصیلات منظر عام پر آ گئی ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ سفاک درندوں نے خاتون اور اس کے کمسن بچوں کو کس قدر اذیتوں میں مبتلا رکھا۔اندوہناک واقعے کی تفصیلات نجی ٹی وی چینل سے منسلک خاتون صحافی فریحہ نے زیادتی کی شکار خاتون کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر شیئر کی ہیں جس میں انہوں نے وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے خصوصی اپیل کی ہے کہ وہ ملزمان کا کوئی لحاظ نہ کریں۔خاتون صحافی نے اپنے ٹوئیٹس میں متاثرہ خاتون کے ساتھ ہوئی گفتگو سے متعلق بتایا کہ لاہور میں زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کے ساتھ انتہائی افسوسناک گفتگو ہوئی ہے، خاتون کی کہانی دل دہلا دینے اور رونگٹے کھڑے کر دینی والی ہے۔خاتون صحافی نے درخواست کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اس معاملے پر زیرو ٹالیرنس کا مظاہرہ کرنا چاہیے، متاثرہ خاتون پڑھی لکھی ہے اور وہ اس راستے پر پہلے بھی بارہا سفر کر چکی ہے۔ ٹوئیٹر پر کیے جانے والے سلسلہ وار ٹوئیٹس میں خاتون صحافی نے بتایا کہ کہ درندگی کا نشانہ بننے والی خاتون اپنے رشتے دار کے گھر تھی جس نے اسے رات کے وقت سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن چونکہ خاتون پہلے بھی متعدد بار یہ راستہ استعمال کرتی رہی ہیں سو وہ خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے وہاں سے چل پڑیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.