نور مقدم کیس، مرکزی ملزم کے والد ذاکر جعفر نے فرد جرم چیلنج کر دی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نور مقدم کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔مرکزی ملزم کے والد ذاکر جعفر نے فرد جرم چیلنج کر دی۔تفصیلات کے مطابق نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد نے فرد جرم کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ذاکر جعفر نے فرد جرم کے خلاف دائر درخواست میں ٹرائل کورٹ کا 14 اکتوبر کا حکمنامہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ٹرائل کورٹ کا آرڈر قانونی نظر سے نامناسب ہے۔ٹرائل کورٹ نے تاثر دیا کہ فرد جرم پراسیکیوشن کی خواہش کے مطابق ہوتی ہے۔آرڈر سے تاثر ملازم پولیس جو بھی الزام لگا دے اس پر فرد جرم ہو سکتی ہے۔

ذاکر جعفر نے اپنی درخواست میں موقف اپنایا کہ ٹرائل کورٹ نے تاثر دیا کہ فرد جرم محض ایک مکینیکل مشق ہے۔ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قررا دیا جائے۔واضح رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر ، اس کے والد ذاکر جعفر، والدہ عصمت آدم اور ملازمین افتخار، جمیل، جان محمد سمیت تھراپی ورکس سے وابستہ 6 ملزمان پر بھی فرد جرم عائد کی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل دو ماہ میں مکمل کرنے کاحکم دے رکھاہے، فرد جرم عائد ہونے کے بعد حکم پر عمل درآمد کا آغاز ہوگیا ہے۔سماعت کے دوران مرکزی ملزم ظاہر جعفر عدالتی کارروائی میں مسلسل مداخلت کرتا رہا اور کہا کہ نور قربان ہونا چاہتی تھی، اس نے خود کو قربانی کیلئے پیش کیا۔ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت میں نور مقدم کے والد شوکت مقدم سے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی۔ ظاہر جعفرنے بار بار عدالت سے فون کال کرنے کی اجازت کی استدعا بھی کی۔ دوران سماعت ظاہر جعفر کے ملازم ملزم افتخار نے روتے ہوئے کہا کہ نور کا دو سال سے آنا جانا تھا، نہیں علم تھا کہ یہ ہو گا۔جبکہ تھراپی ورکس کے چھ ملزمان بھی عدالتی نوٹس پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے اور صحت جرم سے انکارکیا۔عدالت نے استغاثہ کے گواہ 20 اکتوبر کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔خیال رہے کہ اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود ایف سیون فور میں 20 مئی کو 28 سالہ لڑکی نور مقدم کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔نور مقدم قتل کیس کا ملزم ظاہر جعفر پولیس کی تحویل میں ہے جس کا پولیس کی جانب سے پولی گرافک ٹیسٹ بھی کرایا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں