صرف پاکستان نہیں دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں،وزیرخزانہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)عوام پر پیٹرول مہنگا کر کے مہنگائی کا مزید بوجھ ڈالنے پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ صرف پاکستان میں نہیں دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم عام آدمی کی بہتری اور آسانی کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کی طرف جارہے ہیں۔ موجودہ حکومت معاشی پسماندہ طبقے کر اوپر اٹھانے کی سوچ کے ساتھ سود سے پاک قرضہ اسکیم بھی لا رہی ہے۔واشنگٹن میں بات چیت کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ پاکستان نے معاشی اصلاحات پر بہت کوششیں کی۔ صرف پاکستان میں نہیں دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی 40 فیصد آبادی کو ٹارگٹڈ سبسڈی دیں گے۔ہمارےپاس ڈیٹا بیس آ گیا ہے کہ ہر گھر میں آمدن کتنی ہے۔عوام کوآٹا،چینی اور دالوں پر سبسڈی دیں گے۔واشنگٹن میں سیکریٹری خزانہ یوسف خان، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان کے ہمراہ پریس بریفنگ کے دوران شوکت ترین نے کہا کہ موجودہ حکومت کے اسٹرکچرل اصلاحاتی اقدامات کو سراہا گیا ہے، ملکی معیشت کی بہتری کے لئے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں ٹریک اینڈ ٹریس برائے پاکستان ٹوبیکو، سیمنٹ ، چینی اور بیوریجز انڈسٹری کی بہتری شامل ہے۔ہم آئندہ 4 سے 5 سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 20 فیصد تک لے کر جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر آئی ایم ایف کے ساتھ اچھی اور مثبت ملاقات ہوئی۔ ہم نے بہت سے شعبوں میں گروتھ کا ہدف حاصل کیا،آئی ایم ایف کو تفصیلات دے دی ہیں۔ شوکت ترین نے مزید کہا کہ پاکستان میں ستمبر 2021ء کے دوران 2 ارب 70 کروڑ ڈالر کی آمد کے ساتھ ترسیلات زر نے اپنی مضبوط رفتار جاری رکھی ہے، جون 2020ء سے 2 بلین ڈالر سے زیادہ پر قائم ہے۔یہ مسلسل 7 واں مہینہ ہے جب آمدنی اوسطا 2.7 بلین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ شرع نمو کے لحاظ سے ستمبر کے مہینے میں ترسیلات زر میں 16.9 فیصد سالانہ اضافہ ہوا جبکہ ماہانہ بنیادوں پر آمدنی میں 0.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر 8 ارب ڈالر کی ترسیلات زر میں 12.5 فیصد اضافہ ہوا۔ ستمبر 2021ء کے دوران ترسیلات زر کی آمد بنیادی طور پر سعودی عرب سے حاصل کی گئی جو کہ 681 ملین ڈالر تھی جبکہ متحدہ عرب امارات 502 ملین ، برطانیہ سے 370 ملین اور امریکہ سے 245 ملین ڈالر تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں