حکومت نے نئے گیس کنکشنز پرپابندی لگادی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے نئے گیس کنکشنز پر پابندی کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا کہ گیس کا پرائسنگ میکنزم لارہے ہیں اور اس کے لیے قانون سازی کریں گے۔ جب تک نیا گیس پرائسنگ میکینزم نہیں آتا گھریلو گیس کنکشن پر پابندی عائد کر رہے ہیں۔ گیس کنکشن پر پابندی سوئی ناردرن اور سدرن دونوں کے لیے ہوگی۔وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے کہا کہ پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی گیس کی قلت ہے، ملکی گیس کے ذخائر میں سالانہ 9 فیصد کمی آ رہی ہے۔ پاکستان میں صرف 28 فیصد افراد کو قدرتی گیس میسر ہے، گیس کی

قیمتوں کے تعین کیلئے نیا قانونی طریقہ کار لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے بغیر کمپنیوں کو سالانہ 35 سے 40 ارب روپے نقصان ہوتا ہے۔گھریلو صارفین کو درآمدی گیس دی جائے گی۔ اب کسی وزیر کے دفتر میں بیٹھ کر بجلی گھر لگانے کا فیصلہ نہیں ہو گا۔ حماد اظہر نے ماضی کے منصوبوں کو بجلی مہنگی کرنے کی وجہ قرار دیا ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے بجلی کے مہنگے منصوبے لگائے ، صارفین بجلی لیں یا نہ لیں ، حکومت کو بجلی گھروں کو ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کی خریدوفروخت میں ڈیڑھ سے دو روپے فی یونٹ فرق آ رہا ہے۔اس وجہ سے حکومت کو بجلی کا ٹیرف بڑھانا پڑتا ہے۔ دوسری جانب رواں برس گذشتہ برس کی نسبت گیس بحران شدید ہونے کا خطرہ بھی ظاہر کر دیا گیا ہے۔ جبکہ وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ سال نومبر اور دسمبر میں 11 ایل این جی کارگو آئے، اس سال 10 آئیں گے، اس لیے زیادہ فرق نہیں پڑے گا اور ایل این جی کی کمی سے بحران پیدا نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں