پاکستانی پاسپورٹ عالمی رینکنگ میںکس نمبر پر ہے؟، قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حیران کن انکشافات

اسلام آباد (آن لائن ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز و انسانی وسائل کے اجلاس میں انکشاف ہوا کے کہ پاکستانی پاسپورٹ بین الاقوامی سطح کی ریکنگ میں 77 نمبر پر ہے ، کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ پاکستانی شہریوں کو برطانیہ 1985 تک آن آرائیول ویزہ کی سہولت تھی جبکہ وسطی ایشیاء کے ممالک میں سے دو کے علاوہ کسی ملک کے ساتھ ویزہ استثنی کے حوالہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہے ،موجودہ حکومت میں ویزا کی پالیسی کے حوالے سے 55 ملکوں سے بات چیت چل رہی ہے، کنوینئر کمیٹی نے پاکستانی شہریوں کے لئے آن آرائیول ویزہ دینے والے ممالک کی فہرست طلب

کر لی ہے جبکہ کمیٹی میں دوہری شہریت رکھنے والے ہاکستانیوں کا ووٹ کے حوالے سے موضوع بھی زیر بحث رہا ۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز و انسانی وسائل کا اجلاس زیر صدارت کنوینئر کمیٹی ڈاکٹر مہرین رضاق بھٹو ہوا ہے کمیٹی اجلاس میں پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر امیج اور پاسپورٹ پر بات چیت کرتے ہوئے کنوینئر کمیٹی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ 77 نمبر پہ ہے ہماری طرف سے جو امور التوا کا شاکار ہیں انکو تیزی سے حل کی طرف کے جایا جائے تاکہ پاکستان کا سافٹ امیج بہتر ہوسکتے اورملک میں سرمایہ کاری آئے اور سیاحت کو فروغ حاصل ہو ممبر کمیٹی سید جاویدحسنین نے اس موقع پر کہا ہے کہ ہماری ناکامی ہے کہ ہم نے اس وقت ویزہ استثنی کے حوالہ سے ہم نے ٹیک اپ نہیں کیا افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ برطنیہ کے ساتھ 31 دسمبر 1985 تک آن آرائیول ویزہ تھااتنے برس بیت جانے کے بعد کوئی کام نہ ہوسکا اب جبکہ یوکے یورپی یونین سے نکل گیا ہے ہمیں یہ اشو ان سے ٹیک اپ کرنا چاہیے ممبر کمیٹی زوالفقار علی دولہا نے کہا ہے کہ ہمیں ان ممالک کی فہرست مہیا کی جائے جو پہلے پاکستانیوں کو آن آرائیول ویزہ دیتے تھے اور اب نہیں دیتیکن ممالک کو ہم نے آن آرائیول ویزہ کی سہولت دے رکھی ہے اور کن ممالک نے ہمیں یہ سہولت دے رکھی ہے لسٹ فراہم کی جائے جبکہ پولینڈ کے حوالہ سے ہمیں پیش رفت پہ تفصیل دی جائے کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ

سنٹرل ایشن سٹیٹس میں ہمارے ایک یا دو ممالک کے علاوہ کسی کے ساتھ ویزہ استثناء کے حوالہ سے معاہدہ نہیں ہے ۔کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ تھاء لینڈ میں 1.3 بلین انڈین کو آن آرائیول ویزہ کی سہولت میسر ہے جبکہ ہمارے آفشلز کو بھی ویزہ نہیں دیتے ہیں ممبر کمیٹی حسنین نے کہا کہ کسی اچھے ملک کے ساتھ ویزہ استثنی نہیں بہت ساری جگہوں پر ہماری اپنی ناکامیاں ہیں مسئلہ پائپ لائن میں رہے گا کبھی بھی اس میں بہتری کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اس موقع پر سیکرٹری وزارت داخلہ نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ ویزا کی پالیسی کے حوالے سے 55

ملکوں سے بات چیت چل رہی ہے بیجنگ میں ہمارا آفشل اور ڈپلومیٹ دونوں پاسپورٹ ہے، ،کنوینئر مہرین رزاق نے کہا ہے کہ پاکستان کا سافٹ ایمج ہونا چاہیے، باقی ممالک خود پاکستان کی جناب بڑھے،جبکہ کنوینئر کمیٹی جاوید حسنین نے کہا ہے کہ نو یا دس رشئین سٹیٹ کے علاوہ کسی سٹیٹ کے ساتھ ویزہ کے حوالے سے اگریمنٹ نہیں ہے،اس موقع پر دوہری شہریت کے حوالے سے بار کرتے ہوئے ممبر کمیٹی سید جاوید حسنین نے کہا ہے کہ دہری شہریت والے پاکستانیوں کو ووٹ کی بات کی جاتی ہے کیسے ووٹ دے سکیں گے سپین میں ہمارے لاکھوں پاکستانی بس چکے ہیں آپ اگر سپین کے اعداد و شمار کریں تو پاکستان کے علاوہ کوء قوم وہاں آباد نہیں ہوئے سپینش کالونیز کے علاوہ آؤٹ سائیڈر پاکستانی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں