ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تدفین کے بعد ان کی بڑی بیٹی کو پورے اعزازکیساتھ کیا چیز پیش کی گئی ؟جانئے

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ اسلام آباد کی شاہ فیصل مسجد میں ادا کی گئی ۔ڈاکٹر عبدالقدیر کی نماز جنازہ کی امامت پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی نے کرائی جس میں قائم مقام صدر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے علاوہ ، کابینہ اراکین ،اراکین پارلیمنٹ ،سول اور ملٹری حکام اور بڑی تعداد عوام نے شرکت کی۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی اور نامور سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان طویل علالت کے بعد 10 اکتوبر اتوار کی صبح 85 برس کی عمر میںانتقال کر گئے ۔جنازے کے وقت اسلام آباد میں تیز بارش

کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث عوام کو جنازہ گاہ پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس کےبا وجود عوام کی بڑی تعداد اپنے قومی ہیرو کو الوداع کہنے کے لیے فیصل مسجد پہنچی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جسدِ خاکی کو قومی پرچم میں لپیٹا گیا اور نماز جنازہ سے قبل انہیں پاک فوج کے دستے کی جانب سے سلامی بھی دی گئی۔اس موقع پر فیصل مسجد کے اطراف اور اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔نماز جنازہ میں شرکت میں وفاقی دارالحکومت کے قریبی شہروں سے بھی عوام کی بڑی تعداد پہنچی ،بعدازاں ڈاکٹر عبد القدیر خان کی پورے سر کاری اعزاز کے ساتھ تدفین کی گئی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تدفین کے بعد ان کی بڑی بیٹی کو پورے اعزاز کے ساتھ پاکستان کا پرچم پیش کیا گیا۔یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان طویل عرصے سے علیل تھے اور طبیعت بگڑنے پر انہیں صبح سویرے اسلام آباد کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے تمام اراکین کو محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی ہدایت کی تھی۔وزیر داخلہ اسد عمر نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کی نماز جنازہ میں آمد سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ قوم اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتی۔ مسجد سے واپسی پر کم سے کم ایک میل تک لوگ مسجد کی طرف جاتے نظر آ رہے تھے جو رش کی وجہ سے وقت پر نہیں پہنچ سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں