ٹک ٹاکر عائشہ کیس میں نیا موڑ آنے پر اقرارالحسن کا موقف آگیا

کراچی ( نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر عائشہ کیس میں نیا موڑ آنے پر اقرارالحسن کا موقف آگیا۔ تفصیلات کے مطابق معروف اینکر پرسن سید اقرار الحسن نے کہا ہے کہ عائشہ اکرام مینارِ پاکستان خود گئی یا اسے کوئی وہاں لے کر گیا ، وہ پرہیز گار تھی یا خدانخواستہ طوائف‘ اُس کے کپڑے پھاڑنے کا حق کسی کو نہیں تھا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ صرف اس ایک بات پر ہم سب کو اُس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئیے تھا کیوں کہ ہمیں ہر اُس عورت کا ساتھ دینا ہے جس کے ساتھ بدتہذیبی کی جائے۔ادھر گریٹر اقبال پارک ہراسگی واقعے کی متاثرہ خاتون عائشہ اکرم کا کہنا ہے کہ مجھے

اور میرے اہلخانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں ، متاثرہ خاتون عائشہ اکرم نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے متعلق ایک بار پھر ویڈیو بیان جاری کیا، جس میں متاثرہ لڑکی نے کہا کہ حلفا کہتی ہوں کہ مجھے اسے بارے کچھ علم نہیں تھا،اب مجھے اور میرے اہلخانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں، متاثرہ لڑکی نے وزیر اعظم،وزیراعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ حکام سے تحفظ کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جو عناصر بلیک میل کرتے رہے ہیں ان کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے،تاکہ آئندہ آنے والی نسل کو بلیک میل کرنے پہلے یہ عناصر ہزار بار سوچیں۔دوسری جانب ٹک ٹاکر عائشہ کیس کے حوالے سے ملزم ریمبو نے مینار پاکستان واقعہ سے متعلق نئے انکشافات کیے ہیں ، اپنے بیان میں ملزم ریمبو نے کہا ہے کہ عائشہ نے مقدمے میں گرفتار فی ملزم سے 5 لاکھ لینے کا کہا تھا ، عائشہ نے بلیک میل کیا اگر بات نہ مانی تو جیل بھجوا دوں گی ، جس کے بعد راتوں رات مجھ پر ایف آئی آر کرائی گئی ، دوران سماعت ملزمان کے وکیل نے کہا کہ ویڈیوز موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ریمبو اور دیگر نے ٹک ٹاکر کی جان بچائی تاہم عدالت نے ریمبو سمیت دیگر ملزمان کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں